السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! مجھے یہ پتہ کرنا ہے کہ میرا کام رئیل اسٹیٹ کا ہے، میں نے ایک پارٹی کو بلڈر کے ساتھ مل کر دو فلیٹس فروخت کیے تھے، تمام رقم کی ادائیگی 25 دسمبر تک طے ہوئی تھی، بلڈر نے اقساط بنا کر دی تھی ، 10 لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ کر دی تھی، اٹیچمنٹ آپ کے ساتھ شئیر کردیتا ہوں، جس پارٹی نے خریداری کی تھی، اب وہ ڈیل واپس لے رہی ہے، اور جو رقم دی تھی وہ بھی واپس مانگ رہا ہے، بلڈر مکمل رقم واپس کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن میرا مؤقف یہ ہے کہ میں نے محنت کی ہے، بلڈر مجھے میرے حق کے پیسے (کمیشن) دے، لیکن وہ دے نہیں رہا، اور میں کہہ رہا ہوں یہ میرا حق ہے، ڈیل خریدار نے واپس کی ہے، تو میرا کمیشن بنتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ میرا کمیشن بنتا ہے یا نہیں؟ اگر میرا کمیشن بلڈر کو دینا چاہئے تو بتائیں، میں نے بلڈر کو بھی یہی بولا آپ کی جب آدھی پیمنٹ ہو جاتی ہے تو آپ میرا کمیشن دے دیتے ہیں، اگر آدھی پیمنٹ کے بعد ڈیل واپس ہوتی تو کیا آپ مجھ سے کمیشن واپس مانگتے؟ نہیں نہ ، تو میرا حق مجھے دیں۔ آپ پلیز اس میں میری مدد کریں، مجھے لگتا ہے یہ میرے حق کے پیسے ہیں۔
واضح ہو کہ کسی چیز کی خرید و فروخت کے لئے بائع اور مشتری کے درمیان معاملہ کی انجام دہی میں معاونت فراہم کرنےوالے کو شریعت کی اصطلاح میں دلال (بروکر ، کمیشن ایجنٹ) کہتے ہیں، دلال اپنے حصے کا کام (بائع ومشتری کے درمیان خریدوفروخت کامعاملہ طے کروانا)مکمل ہوتے ہی طے شدہ اجرت کامستحق ہو جاتا ہے،چنانچہ بالفرض اگرکسی معاملہ میں بائع ومشتری اقالہ (بیع کوختم کرنا)کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے کمیشن ایجنٹ کی اجرت ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ بدستوراپنی طے شدہ اجرت کاحقداررہتاہے ۔ لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل نے کمیشن ایجنٹ کے طور پر بائع (بلڈر) اور مشتری کے درمیان معاملہ طے کروا کے مذکور فلیٹ فروخت کروادیے ہوں اوران فلیٹوں کی قیمت میں سے کچھ رقم بائع (بلڈر) بطوربیعانہ بھی وصول کر چکا ہو توایسی صورت میں شرعاً یہ معاملہ مکمل ہو چکا ہے ، چنانچہ اب بائع یا مشتری کے باہمی رضامندی سے اقالہ کرلینے سے سائل کاثابت شدہ حق ساقط نہ ہوگا،بلکہ سائل اگربائع (بلڈر)کی جانب سے دلال بناہوتو اس پر لازم ہے کہ وہ سائل کو طے شدہ کمیشن ادا کردے، لیکن اگر بوقتِ عقدسائل کا کمیشن متعین نہ کیاگیاہو، تب بھی سائل اجرتِ مثل(مارکیٹ کے عرف کے بقدر) کا حقدار ہوگا۔
کما فی رد المحتار : تحت : (قوله: والسمسار) هو المتوسط بين البائع والمشتري بأجر من غير أن يستأجر. (فصل فی المتفرقات فی المضاربة، ج: 5 ، ص: 656 ، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار : (و لايستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه) كفتال و حمال و دلال و ملاح. اھ (باب ضمان الاجیر، ج: 6 ، ص: 64 ، ط: سعید)۔
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام : الأجير المشترك لا يستحق الأجرة إلا بالعمل.أي لا يستحق الأجرة إلا بعمل ما استؤجر لعمله؛ لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بينهما فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر لا يسلم له العوض والمعقود عليه هو العمل، أو أثره على ما بينا؛ فلا بد من العمل.(زيلعي. رد المحتار) .فمتى، أوفى العامل العمل استحقت الأجرة اھ (کتاب الاجارۃ ، المادة 424 ، ج: 1 ، ص: 457 ، ط: دار الجیل)۔
و فی الھندیۃ : قال للدلال اعرض ضيعتي وبعها على أنك إذا بعتها فلك من الأجر كذا فلم يقدر الدلال على إتمام الأمر ثم باعها دلال آخر قال أبو القاسم ولو عرضها الأول وصرف فيه روزجارا يعتد به فأجر مثله له واجب بقدر عنائه وعمله (الی قوله) الدلال في البيع إذا أخذ الدلالة بعد البيع ثم انفسخ البيع بينهما بسبب من الأسباب سلمت له الدلالة كالخياط إذا خاط الثوب ثم فتقه صاحب الثوب. كذا في خزانة المفتين۔ اھ (الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة ، ج: 4 ، ص: 451)ـ
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0