ایک کرایہ دار نے اپنے مالک مکان سے کہا کہ میں یہ مکان خریدنا چاہتا ہوں، پھر مالک مکان نے اس گھر کی جو قیمت بتا ئی، اس پر کرایہ دار راضی نہ ہوا ،لیکن یہ کہا کہ آپ جب بھی گھر بیچیں گے، میں ہی خریدوں گا، پھر بعد میں مالک مکان نے وہ گھر کرایہ دار کے پڑوسی کو بیچ دیا، چونکہ مالک دوسری جگہ رہتا ہے، اس لیے لوگوں کو اس بیع کا علم نہ ہوا، پھر جب بعد میں اسے معلوم ہوا تو اس نے کہا اس کو اتنی ہی قیمت میں خریدنا چاہتا ہوں ،جتنا اس نے میرے پڑوسی کو بیچا ہے، اب یہ معلوم کرنا ہے کہ اس کرایہ دار کا جھگڑا درست ہے یا نہیں اور اس کو شفعہ کا حق ہے یا نہیں ؟
کرایہ پر کسی مکان میں رہائش اختیار کرنے سے شرعاً حق شفعہ حاصل نہیں ہوتا، اس لیے شخص مذکور کا مالک مکان سے جھگڑنا درست نہیں، اسے چاہیے کہ اپنے مذکورہ غلط رویہ سے مکمل احتراز کرے ۔
كما في الفتاوى الهندية: ومنها ملك الشفيع وقت الشراء في الدار التي يأخذ بها الشفعة فلا شفعة له بدار يسكنها بالإجارة أو الإعارة ولا بدار باعها قبل الشراء ولا بدار جعلها مسجدا اھ (5/ 161) واللہ اعلم بالصواب