کیا call center (کال سینٹر)میں کام کرنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ کسی بھی کام کے جواز وعدمِ جواز اور اس کی تنخواہ کی حلت وحرمت کا تعلق اس کام کی نوعیت اور طریقہ کا ر پر موقوف ہوتا ہے، لہذا پاکستان میں کال سینٹر کے طور پر قائم ہونے والا ادارہ اگر ملکی قانون کے تحت کام کررہا ہو اس طور پر کے انہیں "SECP"کی جانب سے باقاعدہ اس کی اجازت مل چکی ہو اور وہ کام غیر قانونی امور(جیسے منی لانڈرنگ، اسکیمز اور دھوکہ دہی کے ذریعہ لوگوں سے رقوم کی وصولی وغیرہ)، ناجائز اور حرام پراڈکٹ (جیسے انشورنس پالیسی، شراب ) کی تشہیر اور خرید وفروخت وغیرہ پر مشتمل نہ ہو اور نہ ہی کام کے دوران اپنی شناخت چھپا کر جھوٹ اور غلط بیانی کا سہارا لیا جاتا ہو تو شرعاً یہ کام جائز اور اس کی تنخواہ حلال ہوگی، ورنہ نہیں۔
کما فی الصحیح لمسلم : عن عبد اللہ قال: قال رسول اللہﷺ إن الصدق یھدی إلی البر و إن البر یھدی إلی الجنۃ و إن الرجل لیصدق حتی یکتب صدیقا و إن الکذب یھدی إلی الفجور و إن الفجور یھدی إلی النار و إن الرجل لیکذب حتی یکتب کذابا الخ (باب القبح الکذب، ص1081، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
و فی سنن أبی داود : عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہﷺ مرّ برجل یبیع طعاما فسألہ کیف تبیع؟ فأخبرہ فأوحی إلیہ أن أدخل یدک فیہ فأدخل یدہ فیہ فإذا ھو مبلول فقال رسول اللہﷺ لیس منا من غش الخ (باب فی النھی عن الغش، ج 2، ص1326، ط: بشری)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0