کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دکان کا مالک دکان کرائے پر دیتےوقت کتنا ایڈوانس اپنے پاس بطور سیکیورٹی کے رکھ سکتا ہے؟
اگر دکان کا کرایہ 25 یا 30 ہزار ہو لیکن وہ 10 لاکھ ایڈوانس مانگ رہا ہے سیکیورٹی کے طور پر کیونکہ جو دکان وہ دے رہا ہے اس میں شیشے کا بہت سارا کام ہوا ہے جو اگر چہ 10 لاکھ تک نہیں پہنچا ہوگا لیکن اچھی بھلی مقدار کا ہے؟
دکان کے مالک کا کسی شخص کو کرایہ پردکان دیتے وقت ایڈوانس کی مد میں اس سے لی جانے والی رقم کی شرعاً کو ئی تحدید نہیں ،بلکہ مارکیٹ کے عرف اور مکان و دکان وغیرہ کی کنڈیشن کے مطابق باہمی رضامندی سے کوئی بھی مقدار طےکی جاسکتی ہے ،تاہم یہ رقم چونکہ ابتداءً امانت اور انتہاءً قرض کی حیثیت رکھتی ہے ،اس لئے کریہ داری کا معاہدہ ختم ہو نے کے بعد مالک کے ذمہ کرایہ دار کو یہ رقم واپس کر نا لازم اور ضروی ہو گا۔
كما في شرح المجلة: يعتبر ويراعى كل ما اشترط العاقدان في تعجيل الأجرة وتأجيلها اھ (۱ج/ص ۵۵۷)۔
وفی درر الحکام : إعارة المثليات قرض: وتستعمل إعارة الدراهم والدنانير والجوز والبيض وسائر المثليات واستعارتها عند الإطلاق بمعنى القرض.ووجه الارتباط بين القرض والعارية هو أن كلا من العقدين عقد تبرع فلكل من العاقدين فيهما حق الرجوع عنه،اھ،( یشترط ان یکون الشیئ المستعار صلحاً للانتفاع ،ج: 2، ص :342 ناشر : دار جیل)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0