میں ایک امریکن کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، کمپنی ایک یہودی کمپنی ہے پاکستانی آدمی چلا رہے ہیں، جن کا ذہن یہودیوں سے بھی زیادہ سازشی ہے، ہر وقت ہمارا خون نچوڑنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری کمپنی کی کچھ پالیسیاں اچھی بھی ہیں اور کچھ بری بھی اور کچھ ہمارے پاکستانی یہودیوں نے بنائی ہیں۔
ہماری ایک پالیسی یہ ہے کہ ہم اگر کسی ملک میں 3 مہینوں سے زیادہ رہیں تو اندازاً 2 سے 3 لاکھ ہر مہینے کے ملتے ہیں، اس میں کھانا شامل نہیں ہوتا، کام 18 گھنٹے بھی کرنا پڑتا ہے، دوسری پالیسی ہے کہ اگر 3 مہینے سے کم ہوں تو صرف کھانے کے پیسے ملتے ہیں اور مہینہ کا ایک روپیہ بھی نہیں ملتا کام اتنا ہی 12 سے 18 گھنٹے ، اب ہمارے پاکستانی یہودیوں نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ہمارا سفر اور قیام کی ۳ ماہ سے ایک ماہ کر دیا اور کام تین ماہ کا ہی لیا اور ہم کو صرف کھانے کے پیسے دیے اس کے علاوہ ایک روپیہ بھی نہ دیا اور ۱۲ یا ۱۳ لاکھ کے ہمارے حق پر ڈاکہ مار لیا اور آقاؤں کو خوش کر لیا، اس دوران ایک دن غلطی سے میرے اکاؤنٹ میں کمپنی کے پچاس ہزار روپے آگئے کسی کو نہیں پتہ چلا، کیا میں یہ رقم ان 8 سے 9 لاکھ کے بدلے میں رکھ سکتا ہوں جو کہ ان کا دس فیصد بھی نہیں؟ اور میں یہ پیسے ابو کے علاج پر خرچ کر چکا ہوں۔
کمپنی کا تین مہینوں سے کم میں کام لیکر اجرت نہ دینا اگر ملازمین کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ہو تو معاہدہ چونکہ ملازمین کی منشاء سے ہے اور ان کی طرف سے تبرع ہے تو اس میں حرج نہیں اور اگران کی منشا کے خلاف ہونے یا ایک ماہ کا معاہدہ کر کے تین ماہ کا کام لیا اور اجرت ایک ہی ماہ کی دی تو یہ سراسر ظلم ہے، جس کی بناء پر صاحب حق اپنا حق مذکور طریقے سے بھی لے سکتا ہے، ورنہ نہیں۔
کما فی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل اھ (6/ 69)
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: والمفتى به اليوم كما قال ابن عابدين جواز الأخذ من جنس الحق أو من غيره، لفساد الذمم اھ (4/ 2858)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0