کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا شراب کی حرمت مطلقا ہوئی یا تدریجا ؟
واضح ہو کہ شراب کی قطعی اور مطلق حرمت تو غزوہ احزاب کے بعد ہوئی تھی، تاہم اس سے قبل اللہ تعالی نے شراب کی نفرت اور کراہت کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں بٹھانے کے لیے مختلف باتیں نازل فرمائی، جیسے تدریجا حرمت کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے، چنانچہ شراب کی حرمت تدریجا اس طرح ہوئی کہ پہلی مرتبہ شراب کے ناپسند ہو نے پر آیت نازل ہوئی، پھر دوسری مرتبہ آیت میں شراب کے نقصانات کی طرف اشارہ کیا گیا اور تیسری آیت میں خاص نمازوں کے دوران شراب کی حرمت کی گئی، اور آخر میں غزوہ احزاب کے چند دن بعد قطعی طور پر شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا۔
ففي تفسير روح المعاني: ودعا رجالا من المسلمين فيهم سعد بن أبي وقاص وكان قد شوى لهم رأس بعير فأكلوا منه وشربوا الخمر حتى أخذت منهم ثم إنهم افتخروا عند ذلك وتناشدوا الأشعار فأنشد سعد ما فيه هجاء الأنصار وفخر لقومه فأخذ رجل من الأنصار لحي البعير فضرب به رأس سعد فشجه موضحة فانطلق سعد إلى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم وشكا إليه الأنصار فقال: اللهم بين لنا رأيك في الخمر بيانا شافيا فأنزل الله تعالى إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ إلى قوله تعالى: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ وذلك بعد غزوة الأحزاب بأيام فقال عمر رضي الله تعالى عنه: انتهينا يا رب. وعن علي كرم الله تعالى وجهه لو وقعت قطرة منها في بئر فبنيت في مكانها منارة لم أؤذن عليها ولو وقعت في بحر ثم جف فنبت فيه الكلأ لم أرعه دابتي. وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما لو أدخلت أصبعي فيها لم تتبعني- وهذا هو الإيمان والتقى حقا. (1/ 506) والله اعلم بالصواب