ایک دکان میں دو دوست موبائل فون کا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص موبائل فون کی ریپیئرنگ (مرمت) کا کام کرتا ہے، جبکہ دوسرا شخص موبائل فون کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے۔
موبائل فون کی خرید و فروخت کرنے والے شخص نے دکان میں موجود ہر موبائل فون کی ایک مقررہ قیمت طے کر رکھی ہے، مثلاً کسی موبائل کی قیمت 50,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ وہ اپنے ساتھی (جو مرمت کا کام کرتا ہے) سے یہ کہتا ہے کہ اگر میری غیر موجودگی میں کوئی گاہک آ جائے تو آپ ان موبائل فونز کو گاہک کے ساتھ بات چیت کر کے فروخت کر دیا کریں، اور اگر آپ مقررہ قیمت (مثلاً 50,000 روپے) سے زیادہ پر موبائل فروخت کر لیں، تو مقررہ قیمت سے زائد جتنی رقم ہو گی، وہ آپ کی ہوگی۔
مثال کے طور پر اگر کوئی موبائل جس کی قیمت 50,000 روپے مقرر ہے، 55,000 روپے میں فروخت ہو جائے تو اضافی 5,000 روپے مرمت کرنے والے شخص کے لیے ہوں گے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1. اس معاملے کی شرعی و فقہی تکییف کیا ہے؟
2. کیا اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
3. اگر یہ صورت جائز نہیں ہے، تو کیا اس معاملے کی کوئی جائز اور درست شرعی صورت ممکن ہے؟ اگر ممکن ہو تو اس کی وضاحت فرما دیں۔
سوال سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہر دوست کا اپنا ،اپنا کاروبار ہے ،اور کوئی شراکت نہیں ،مقصود صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ ریپیئرنگ والا دوست اگر موبائل مقررہ قیمت سے زائد پر بیچ دے تو موبائل والے دوست کی طرف سے زائد روپے اسے دیے جاتے ہیں تو آیا یہ زائد رقم ریپیئرنگ والے دوست کے لیے لینا جائز ہے یا نہیں ؟اگر ایسا ہی ہو تو واضح ہو کہ موبائل کی ریپیئرنگ کرنے والا شخص موبائل فروخت کرنے والے شخص کے لیے وکیل بالاجرۃہے اور وکیل بالاجرۃکی اجرت طے کرنا شرعا لازم اور ضروری ہے چنانچہ صورت مسئولہ میں مذکور شخص کی اجرت متعین نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ شرعا اجارہ فاسدہ کے زمرے میں آتا ہے جس میں موبائل فروخت ہونے پر موبائل کے مالک پر اجرت مثل لازم ہوگی ،تاہم اگر موبائل والا دوست خوشی سے ساری زائد رقم چھوڑ دیتا ہو تو دوسرے دوست کے لیے اس رقم کےلینے کی گنجائش ہے ،جبکہ اس معاملے کی جائز اور درست صورت یہ ہے کہ ریپرنگ کرنے والے دوست کے لیے موبائل فروخت کرنے پر کم از کم کوئی معمولی اجرت مثلا 100 روپے مقرر کی جائے جو اسے ہر حال میں دی جائے خواہ وہ موبائل مقررہ قیمت پر فروخت کر دے یا اس سے زیادہ پر اور ساتھ میں اس سے یہ بھی کہہ دیا جائے کہ مقررہ قیمت سے زیادہ پرفروخت کرنے کی صورت میں اضافی رقم بھی اسی کی ہوگی چنانچہ اسی طرح کرنے سے شرعاً یہ معاملہ جائز اور درست ہو گا
کما فی الہدایۃ: قال: "كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره" لأن الإنسان قد يعجز عن المباشرة بنفسه على اعتبار بعض الأحوال فيحتاج إلى أن يوكل غيره فيكون بسبيل منه دفعا للحاجة. وقد صح أن النبي صلى الله عليه وسلم وكل بالشراء حكيم بن حزام وبالتزويج عمر بن أم سلمة رضي الله عنهما۔(ج:3،ص:1273،مط:مکتبۃ البشری
وفی الھندیۃ: ولو وكله بأن يبيعه بألف درهم فباعه بأكثر نفذ البيع وإن باعه بأقل لم ينفذ وكذا لو باعه بغير الدراهم لم يجز وإن كان قيمة ذلك أكثر من ألف درهم كذا في السراج الوهاج.(ج:3،ص:590)
وفیہ ایضاً: وللوكيلأن يطالب الموكل بالأجرة،(ج:3،ص:513)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0