السلام علیکم
میرا ایک کزن ہے اور ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں.میرا کزن میریڈ ہے اس کی شادی اس کے گھر والوں نے کروائی تھی.ہم نے سوچا کہ ہم اب رابطہ نہیں کریں گے.ہم کسی کی زندگی خراب نہیں کر سکتے.اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ بہت مخلص ہو کر رہنا چاہتا تھا اور کافی ٹائم تک اس نے کوشش کی لیکن وہ خوش نہیں رہ سکتا ،اس کو لگتا ہے اس کی زندگی برباد ہو گئی ہے.ہم دونوں رابطے میں آگئے اور ہم حرام رشتے میں ہیں اور گناہ میں مبتلا ہو رہے ہیں اور مزید گناہ کا ڈر ہے،ہم دونوں اللہ سے ڈرنے والے ہیں نماز بھی پڑھتے ہیں اور کوئی بڑا گناہ بھی نہیں کرتے.اس لیے بھی اس بات سے بہت ڈر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہم دونوں شادی کر لیں لیکن اس کو عزت کے ساتھ طلاق دے دیں.تاکہ وہ بھی اپنی زندگی خوشی سے گزار سکے اور ہم دونوں بھی، ہم اس کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا چاہتے اس کو شریعت کے اصول کے مطابق عزت کے ساتھ حق مہر ادا کر کے رخصت کرنا چاہتے ہیں.ہم نے ایک حدیث سنی تھی کہ صحیح بخاری (حدیث: 5273)خلاصہ (اردو میں):حضرت ثابت بن قیسؓ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا:یا رسول اللہ! میں ثابت کے دین اور اخلاق پر کوئی اعتراض نہیں کرتی،لیکن مجھے ان سے نفرت ہے، اور میں اسلام میں کفر (ناشکری) میں پڑنے سے ڈرتی ہوں۔یعنی:وہ شوہر کو پسند نہیں کرتی تھیں اور ازدواجی زندگی نبھا نہیں پا رہی تھیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کیا تم اس کا باغ (جو مہر میں دیا تھا) واپس کر دو گی؟انہوں نے کہا: جی ہاں تو رسول اللہ ﷺ نے ثابتؓ کو حکم دیا کہ باغ لے لو اور اسے طلاق دے دو (خلع)۔اور اس کو یہ ڈر بھی ہے کہ وہ اس کے حقوق ادا نہ کر سکے گا.وہ لڑکی اچھی بھی ہے پیاری بھی ہے اور اپنا اچھی جاب کرتی ہے اور اگر وہ اس کو چھوڑ دے گا تو وہ اپنی اچھی جگہ شادی بھی کر سکتی ہے اور سکون والی زندگی جو وہ ڈیزرو کرتی ہے وہ رہ سکتی ہے ہمیں لگتا ہے یہاں تینوں کے لیے ٹھیک ہے.وہ اگر اپنی بیوی کو شرعی طریقے سے عزت کے ساتھ حق مہر ادا کر کے رخصت کرتا ہے تو کیا ہم پر اس بارے میں گناہ ہے؟مہربانی فرما کے ہماری رہنمائی کر دیجئے ۔
صورت مسئولہ میں اولاً تو سائلہ اور اس کے کزن کا باہم بے تکلفی اور میل جول رکھنا شرعا ناجائز اور حرام ہے جس کی وجہ سے دونوں سخت گنہگار ہورہے ہیں ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ اپنے گزشتہ گناہوں پر صدق دل سے توبہ و استغفار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے ایک دوسرے سے کسی بھی قسم کا رابطہ رکھنے سے اجتناب کریں تاکہ ان کی شادی شدہ زندگی محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ گناہوں میں پڑنے سے حفاظت بھی ہوسکے ۔
ثانیا :اگر سائلہ اور اس کا کزن ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں تو انہیں اپنے بڑوں کو اعتماد میں لیکر شادی کر لینی چاہئیے ،لیکن اگر یہ شادی ممکن نہ ہو تو سائلہ کے لیے اپنے کزن کی شادی شدہ زندگی کو خراب کرنا اور اس کی موجودہ بیوی کے گھر کو اجاڑنا جس میں اس کی کوئی غلطی بھی نہیں ، ظلم ہونے کے ساتھ گناہِ کبیرہ ہے اور اگر اس کا شوہر اپنی بیوی کے حقوق میں کوتاہی کا مرتکب ہورہا ہو تو اس کی وجہ بھی سائلہ کے ساتھ جاری رابطہ اور تعلق ہے ، اور اگر وہ سائلہ کی وجہ سے موجودہ بیوی کو چھوڑ دیتا ہے توا ْس کی دل آزاری کی وجہ سے یہ دونوں بھی سکون سے آباد نہ رہیں گے ، اس لیے ان دونوں کا آپس میں رشتہ کرنے کی وجہ سے اس کا گھر برباد کرنا اور اس پر طلاق کا دھبہ لگانا کسی بھی صورت جائز نہیں ، البتہ اگر یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تو بڑوں کو اعتماد میں لیکر سائلہ کے ساتھ دوسرا نکاح کرسکتا ہے،اور اسکےلئے پہلی بیوی کو طلاق دینا ضروری نہیں۔
كما في القران المجيد : فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا(سورة النساء، رقم الاية :٣٤)
وفيه ايضاً : وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا(سورة النساء، رقم الاية :١٩)
وفي احكام القران للجصاص : قوله تعالى (وعاشروهن بالمعروف) أمر للأزواج بعشرة نسائهم بالمعروف ومن المعروف أن يوفيها حقها من المهر والنفقة والقسم وترك أذاها بالكلام الغليظ والإعراض عنها والميل إلى غيرها وترك العبوس والقطوب في وجهها بغير ذنب جرى مجرى ذلك نظير (قوله تعالى فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان وقوله تعالى فإن كرهتموهن فعسى أن تكرهوا شيئا ويجعل الله فيه خيرا كثيرا )يدل على أنه مندوب إلى إمساكها مع كراهته لها وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم ما يوافق معنى ذلك حدثنا محمد بن بكرعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق(الى قوله) عن أبي موسى الأشعري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجوا ولا تطلقوا فإن الله لا يحب الذواقين والذواقات، فهذا القول من النبي صلى الله عليه وسلم موافق لما دلت عليه الآية من كراهة الطلاق والندب إلى الإمساك بالمعروف مع كراهته لها وأخبر الله تعالى أن الخيرة ربما كانت لنا في الصبر على ما نكره بقوله تعالى فعسى أن تكرهوا شيئا ويجعل الله فيه خيرا كثيرا وهو كقوله تعالى وعسى أن تكرهوا شيئا وهو خير لكم وعسى أن تحبوا شيئا وهو شر لكم (ج:٢ ص: ١٠٩،مط: سهيل اكيدمي )
وفي رد المحتار : وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها ولهذا قالوا إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل بل هي أعم كما اختاره في الفتح فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر ولهذا قال تعالى { فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا } (كتاب الطلاق ،ج:٣ ص: ٢٢٨،مط: سعيد)