اگر طلاق رجعی کی عدت کے دوران میاں بیوی رات کے وقت ایک ہی پلنگ پر سوتے رہے تو کیا اس سے رجوع ثابت ہوجائےگا؟ کیونکہ نیند یا بیداری کی حالت میں غیر اختیاری طور پر لمس بالشہوت کا امکان ہے۔
واضح ہو کہ طلاق ِرجعی کے بعددورانِ عدت رجوع درست ہونے کیلئے شوہر کی طرف سے باقاعدہ رجوع کی نیت سے ایسے الفاظ کہنا جس سے بیوی کو اپنے نکاح کے تحت رکھنے میں دلچسپی معلوم ہو،یا شہوت کے ساتھ اس کے بوس و کنار وغیرہ کرنا ضروری ہے، محض ایک چار پائی پر ساتھ رہنے سے رجوع درست نہ ہوگا،لہٰذااگر میاں بیوی ایک بستر پر سوتے ہوئےشوہر دورانِ عدت اسے شہوت سے چھولے ،تو شرعاً یہ رجوع درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہتا ہے،ورنہ رجوع کی نیت نہ ہونے کی صورت میں اسے بیوی کے ساتھ ایک بستر پر سونے سے احتیاط چاہیئے۔
کما فی الہندیة : ( فالسنی ) ان یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو ان یقولھا : راجعتک او راجعت امراتی ولم یشھد علی ذلک او اشھد و لم یعلمھا بذلک فھو یدعی مخالف للسنۃ و الرجعۃ صحیحۃ و ان راجعھا بالفعل مثل ان یطاھا او یقبلھا بشھوۃ او ینظر الی فرجھا بشھوۃ فانہ یصیر مراجعا عندنا الا انہ یکرہ لہ ذلک و یستحب ان یراجعھا بعد ذلک بالاشھاد اھ( کتاب الطلاق الباب السادس فی الرجعۃ ،ج: ،1 صـ :467 ط : ماجدیۃ )
و في رد المحتار : قال في البحر: ولا فرق بين كون التقبيل والمس والنظر بشهوة منه، او بشرط ان يصدقها سواء كان بتمكينه، او فعلته اختلاسا، او كان نائما او مكرها، او معتوها، اما اذا ادعته وانكره لا تثبت الرجعةاھ ( باب الرجعة ، ج : ٣، ص : ۳۹۹، ط: سعيد).
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1