السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں بطور لائی مین واپڈا میں 2002 سے ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہوں اور مختلف کیٹیگری میں میں نے کام کیا ہے مثلا کبھی ریڈنگ پر،کبھی ریکوری پر اور کمپلینٹ آفس میں کام کیا، عرصہ دو سال سے واپڈا کے دفتر والوں نے میری تبدیلی کورٹ یعنی عدالت میں بطور کورٹ کلرک کی ہے جو کہ ابھی تک ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہوں، اب اپنی تسلی کے لیے آپ سے درخواست پیش کرنا چاہتا ہوں جس کو آپ دیکھ لیں اور پھر مجھے جواب دیں، تاکہ میری تسلی ہو جائے۔
عدالت کے احوال درج ذیل ہیں:
نمبر 1: کہ صبح تقریبا نو بجے سے جج بیٹھتا ہے اور تقریبا دو گھنٹے کے بعد عدالتی کاروائی شروع ہوتی ہے اور اکثر 12 بجے سے پہلے میرے کیس کی کاروائی ختم ہو جاتی ہے۔
نمبر 2: کبھی صبح کے وقت عدالت جاتے وقت ہڑتال ہوتا ہے۔
نمبر 3: کبھی جج چھٹی پر ہوتا ہے۔
نمبر 4: کبھی مخالف وکیل یا مدعی نہیں ہوتا۔
نمبر 5: کبھی واپڈا کا وکیل نہیں ہوتا۔
نمبر 6: کبھی کبھی تاریخ پیشی نہیں ہوتی، دن خالی گزرتا ہے، اس وجہ سے تاریخ پیشی تبدیل ہو جاتی ہے اور اگلی تاریخ دی جاتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں اس دوران ان وجوہات کی بنیاد پر میرا عدالتی کام ختم ہوتا ہے، آیا میں بغیر کام کے تین بجے تک عدالت کے باہر صحن میں بیٹھا رہوں یا کام ختم کرنے کے بعد گھر جا سکتا ہوں، کوئی حرج تو نہیں ہوگا؟
نوٹ: کام ختم ہونے کے بعد والے اوقات میں واپڈا دفتر کی طرف سے میں آزاد ہوں، بلکہ عدالت کے حوالے کر دیا گیا ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل کے ادارے" واپڈا"نےجب دفتر ی کام کےاوقات میں اسے عدالت کے سپرد کر دیا ہے اور عدالتی کاروائی کےبعدکے اوقات میں ادارے کی جانب سےاس کی کوئی اضافی ذمہ داری بھی متعین نہیں کی گئی، تو ایسی صورت میں اگر عدالت میں کسی دن درج بالا اسباب (جج کی عدم موجودگی، ہڑتال، فریقین یا وکلاء کی غیر حاضری، تاریخ پیشی نہ ہونا وغیرہ) کی بنا پر عدالتی کام عملاً ختم ہو جائے اورکسی افسریا عدالت کی جانب سے مزید حاضری یا انتظار کی کوئی ہدایت بھی نہ ہواوراس کی غیرموجودگی سے سرکاری کام یامفاد میں خلل واقع نہ ہو،تو سائل کے لیے محض وقت پورا کرنے کے لیے تین بجے تک عدالت کے صحن میں بلا وجہ بیٹھے رہناشرعاًلازم نہیں ،بلکہ ایسی صورت میں سائل کاعدالتی امورسے فارغ ہو کر گھر جانا جائز ہے، یہ کسی قسم کے گناہ یا خیانت کے زمرے میں نہیں آتا،بلاوجہ شک وشبہ میں پڑنے سے گریزچاہیے۔
کما فی الدر: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل الخ
وفی الرد تحت (قولہ: قوله وإن لم يعمل) أي إذا تمكن من العمل الخ(کتاب الاجارۃ، باب ضمان الاجیر،ج6،ص69،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی الہندیۃ: وفي فتاوى الفضلي - رحمه الله تعالى -: إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة (ج4،ص 416، ط: ماجدیۃ)۔
وفی مجلۃ الاحکام العدلیۃ: (المادة 425) : الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشترط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة (ص82، ط:نور محمد، کراتشی)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0