محترم مفتیان اور علماء! میں ایک واضح شرعی حکم کے حوالے سے سوال کرنا چاہتا ہوں، ایک ایسے شخص کے بارے میں جو ایک معروف اسلامی عالم اور عوامی مقرر تھا، وہ ایک معزز مذہبی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور کئی سالوں سے ملک بھر میں اسلام کی تبلیغ کرتا رہا ہے،تاہم اب اس نے علانیہ طور پر اسلام سے دستبرداری اختیار کر لی ہے اور خود کو ایگناسٹک/ایتھیسٹ قرار دیا ہے، اس نے نہ صرف اسلامی اعمال کو ترک کر دیا ہے ، بلکہ مذہبی روایات کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے اور شریعت کے متبادل کے طور پر سیکولر نظریات پیش کر رہا ہے،اپنے سابقہ اثر و رسوخ کی وجہ سے اس کے یہ اقدامات نوجوانوں اور ان لوگوں میں نمایاں الجھن، شکوک و شبہات اور فتنہ پیدا کر رہے ہیں ،جو کبھی اس کا احترام کرتے تھے،قرآن اور سنت کی روشنی میں براہ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات دیں:ایسے شخص کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ مرتد (اسلام چھوڑنے والا) ہے؟
اس کے لیے مقررہ سزا کیا ہے؟
اگر وہ توبہ کرنے سے انکار کرے تو کیا وہ سزائے موت کا مستحق ہے؟
سماجی تعلقات: کیا مسلمانوں کے لیے اس کے ساتھ کسی قسم کے سماجی(سلام) یا مالی تعلقات برقرار رکھنا جائز ہے؟
کیا کمیونٹی کو اس کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے؟
کیا کسی مسلمان کے لیے اسے سلام کرنا یا اس کی خاندانی تقریبات میں شرکت کرنا جائز ہے، یا اسے مکمل طور پر الگ تھلگ اور ایمان کے لیے خطرہ سمجھنا چاہیے؟
اگر اسلامی ریاست موجود نہ ہو تو مقامی مسلم کمیونٹی کو ایسے شخص کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے جو اسلام کا مذاق اڑاتا رہے اور لوگوں کو گمراہ کرتا رہے؟جزاک اللہ خیراً"محمد عدنان اسلم"
اگر کوئی شخص اسلام کے قطعی اور بنیادی عقائد کا جان بوجھ کر انکار کرے، خود کو ایتھیسٹ یا غیر مسلم قرار دے، اسلامی شعائر اور احکامِ شریعت کا مذاق اڑائے، اور دوسروں کو بھی دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرے، تو شرعاً ایسا شخص مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
البتہ کسی معین شخص پر ارتداد کا قطعی حکم لگانے سے پہلےاس کے عقائدسے متعلق مستند اہلِ علم کی رائےمعلوم کرنااور شرعی عدالت سےاس کی تحقیق کرواناضروری ہے، تاکہ جہالت، غلط فہمی یا تاویل کا احتمال ختم ہوجائے۔ اگر تحقیق کے بعد ارتداد ثابت ہوجائے تو اسلامی فقہ کے مطابق اسے توبہ کی دعوت دی جائے گی، اگر وہ اخلاص کے ساتھ توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہے، اور اگر اسلامی ریاست میں باوجودِ اتمامِ حجت توبہ سے انکار کرے تو اس کی سزا اسلامی عدالت اور حاکمِ وقت کے اختیار میں ہے، کسی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔لہٰذا کسی شخص کے خلاف خود سے تشدد، قتل، ہجوم سازی یا انتقامی کارروائی کرنا شرعاً ناجائز اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے،جس سے بہرصورت اجتناب لازم ہے۔
تاہم ایسے شخص کے گمراہ کن افکار سے خود بھی بچنا اور دوسروں کو بھی بچانا ضروری ہے۔ اگر اس سے میل جول، دوستی یا تقریبات میں شرکت اس کے باطل نظریات کی تائید یا عوام کے لیے فتنہ کا سبب بن رہی ہو تو اس سے اجتناب کیا جائے، البتہ حکمت، نصیحت اور خیر خواہی کے ساتھ اسے حق کی طرف بلانے کی کوشش جاری رکھی جائے۔خصوصاًاہل علم وتقوی پرنوجوانوں کے عقائد کی حفاظت ، صحیح دینی تعلیم کی اشاعت ، شبہات کا علمی رد ، اور قانونی و پُرامن ذرائع کے ذریعے ایسے فتنوں کا سدِّ باب کرنالازم وضروری ہے ،جس کااہتمام چاہیے۔
کما فی قولہ تعالٰی : لا ينهاكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم أن تبروهم وتقسطوا إليهم إن الله يحب المقسطين (سورة الممتحنة، الأية : 8)-
وفی آیۃ اخرٰی : ﴿ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله وهو في الآخرة من الخاسرين﴾ (المائدة: 5)
وفي التفسير المنير للزحيلي : { لا ينهاكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم أن تبروهم وتقسطوا إليهم إن الله يحب المقسطين } أي لا يمنعكم الله من البرّ والإحسان وفعل الخير إلى الكفار الذين سالموكم ولم يقاتلوكم في الدين كالنساء والضعفة منهم، كصلة الرحم، ونفع الجار، والضيافة، ولم يخرجوكم من دياركم، ولا يمنعكم أيضا من أن تعدلوا فيما بينكم وبينهم، بأداء مالهم من الحق، كالوفاء لهم بالوعد، وأداء الأمانة، وإيفاء أثمان المشتريات كاملة غير منقوصة، إن الله يحب العادلين، ويرضى عنهم، ويمقت الظالمين ويعاقبهم. والمقصود بالآية أن الله سبحانه لا ينهى عن برّ أهل العهد من الكفار الذين عاهدوا المؤمنين على ترك القتال، وعلى ألا يعينوا عليهم، ولا ينهى عن معاملتهم بالعدل، مثل خزاعة، وغيرهم الذين عاهدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم على ترك القتال ( ج 28، ص 135، ط : دار الفكر، دمشق)-
وفی مشكاة المصابيح : عن علي رضي الله عنه قال(إلی قوله) ثم قال ما منكم من أحد ما من نفس منفوسة إلا كتب مكانها من الجنة والنار وإلا قد كتب شقية أو سعيدة فقال رجل يا رسول الله أفلا نتكل على كتابنا وندع العمل فمن كان منا من أهل السعادة فسيصير إلى عمل أهل السعادة وأما من كان منا من أهل الشقاوة فسيصير إلى عمل أهل الشقاوة قال أما أهل السعادة فييسرون لعمل السعادة وأما أهل الشقاوة فييسرون لعمل الشقاوة اھ(1/ 31)
وفی اعلاء السنن : قال رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم "من بدل دینه فاقتلوہ إن اللہ لایقبل توبة عبد کفر بعد إسلامه " أخرجه الطبرانی فی "معجمۃ الکبیر"
قال العلامة العثمانی رحمه اللہ تحت ھذا الحدیث: إن استتابة الإمام فھو أحسن، فإن تاب و إلاقتل وممن قال ذلك ابو حنیفة وابویوسف و محمد رحمة اللہ علیھم اجمعین۔(ج12ص565)
وفی الفقه الاسلامی : وھی شرعاً:الرجوع عن دین الاسلام الی الکفر سواء بالنیة او بالفعل لمکفر او بالقول، سواء قاله استھزاءً او اعتقاداً (ج6ص173)
وفیه ایضا : اتفق العلماء علی وجوب قتل المرتد لقوله علیہ الصلاة والسلام "من بدل دینه فاقتلوہ" وقوله علیه الصلاة و السلام" لا یحل دم امرء مسلم الا باحدی الثلاث (إلی أن قال) و التارك لدینه المفارق للجماعة " و أجمع اھل العلم علی وجوب قتل المرتد (ج6ص186)
وفی الدر : (وکل مسلم ارتد فتوبة مقبولة الا) جماعة من تکررت ردته علی مامرو(إلی کافر بسب بنی) من الأنبیاء فأنه یقبل حدا ولاتقبل توبته مطلقا (ج4ص231)
وفی الشامیة : فھذا کلام الشفاء صریح فی أن مذھب أبی حنیفة و أصحابه القول بقبول التوبة کما ھو روایة الولید مالك الخ (ج4ص233) ۔
وفی الدر ایضا : (من ارتد عرض ) الحاکم (علیه الاسلام استحبابا) علی المذھب لبلوغه الدعوۃ (و تکشف شبھة ) بیان لثمرۃ العرض (و یحبس) وجوبا و قیل ندباً (ثلاثة أیام) یعرض علیه الاسلام فی کل یوم منھا خانیه (وان استمھل) (الی قوله) (فان اسلم) فبھا (و الاقتل) ۔ (4ص225،226)
وفی الفتاوى الهندية : لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية ( الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم، ج 5، ص 346، ط : دار الفكر، بيروت)-
وفي المبسوط للسرخسي : ولا بأس بعقد الهبة بين المسلم والذمي في حال الحياة والأصل فيه قوله تعالى: {لا ينهاكم الله} [الممتحنة: 8] إلى قوله: {أن تبروهم وتقسطوا إليهم} [الممتحنة: 8] الخ ( كتاب الوصايا، ج 27، ص 146، ط : دار المعرفت، بيروت)-