السلام علیکم!میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک ایسی کمپنی میں بطور ڈیلیوری مین کام کرتا ہوں جو مختلف مصنوعات تقسیم کرتی ہے، جیسے بسکٹ اور ٹافیاں۔ ان مصنوعات کے درمیان کچھ دہی (یوگرٹ) بھی شامل ہیں جن میں حرام اجزاء پائے جاتے ہیں۔
تو کیا میرے لیے وہاں کام کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
واضح ہو کہ سائل اگر فوڈ ڈیلیوری میں زیادہ تر حلال اشیاء لوگوں کے گھروں تک پہنچاتا ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے فوڈ ڈلیوری کی ملازمت جائز اور اس پر ملنے والا معاوضہ حلال ہوگا، البتہ اگر اسے کبھی کبھی حرام اشیاء بھی گھروں تک پہنچانی پڑتی ہوں تو اولاً سائل کو چاہیئے کہ حتی الامکان حرام اشیاء کی ڈیلیوری سے اجتناب کیا کرے اور اگر ممکن ہو تو متعلقہ ادارہ کو مطلع کر کے حرام اشیاء کی ڈیلیوری سے معذرت کرے، لیکن اگرلاعلمی میں مذکور حرام چیز کی ڈیلیوری پیش آجائے تو اس عمل پر توبہ و استغفار بھی کرتا رہے اور حرام اشیاء کی ڈیلیوری کے عوض جتنا معاوضہ حاصل ہو، اتنی رقم صدقہ کردیا کرے، تاہم اپنے ارادے و اختیار سے مذکور حرام چیز کی ڈیلیوری کرنے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى. (ج 2 ص 381 )۔
وفی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى الخ(مبحث الاجیر الخاص،ج6،ص69،ط:سعید)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0