السلام علیکم!
۱۔U,A,E چھوڑنے کے دوران یہ صورت حال ہوتی ہے ، جب ہم نے U,A,E کے اندر عید کی نماز پڑھ لی ہوتی ہے ، لیکن جب ہم کراچی پہنچتے ہیں ، یہاں عید کی نماز ہوتی ہے، کیا میرے اُوپر واجب ہوتی ہے کہ میں نمازِ عید دوبارہ ادا کروں ؟
۲۔اگر ہم ۲۹ رمضان کو U,A,E چھوڑ دیں تو کراچی میں ۲۸ رمضان ہوتا ہے اور مضان اگر تیس دن کا ہوتا ہو تو میرے اکتیس دن ہو جائیں گے ، کیا یہ بات درست ہے کہ میں اکتیس دن روزہ رکھوں ؟
۱۔جی ہاں! آپ کو کراچی میں آ کر دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر عید کی نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔
۲۔جی ہاں! آپ پاکستان آ کر دیگر مسلمانوں سے مشابہت کرتے ہوئے اکتیسواں روزہ بھی رکھیں گے، البتہ یہ اکتیسواں روزہ آپ کا نفل شمار ہوگا۔
فی حاشية ابن عابدين : لو صام رائي هلال رمضان و أكمل العدة لم يفطر إلا مع الإمام لقوله - عليه الصلاة و السلام - «صومكم يوم تصومون و فطركم يوم تفطرون» رواه الترمذي و غيره و الناس لم يفطروا في مثل هذا اليوم فوجب أن لا يفطر نهر اھ (2/ 384)۔
فی بدائع الصنائع : و أما صوم رمضان : فوقته شهر رمضان لا يجوز في غيره ، فيقع الكلام فيه في موضعين أحدهما : في بيان وقت صوم رمضان ، و الثاني في بيان ما يعرف به وقته ، أما الأول : فوقت صوم رمضان شهر رمضان ، لقوله تعالى {فمن شهد منكم الشهر فليصمه} [البقرة: ١٨٥] أي : فليصم في الشهر اھ (۲/ ۸۰)۔