میں ایک ڈایگنوسٹک سنٹر میں بطور ڈاکٹر کام کر رہا ہوں ،نوکری دینے سے پہلے افیڈوٹ پر یہ لکھوایا گیا کہ اگر چار سال کے دورانیے میں کسی بھی وقت نوکری چھوڑی تو اس عرصے تک جتنی تنخواہ ملے گی ،وہ واپس کرنی لازم ہوگی کیا یہ تنخواہ جو مجھے مل رہی ہے یہ ایک قرضے/ادھار کی شکل ہے؟ کیا اس پوری تنخواہ کو اپنے اخراجات میں خرچ کرنا درست ہوگا؟
کسی ادارے یا کمپنی کے ملازم کو ملازمت چھوڑنے کی صورت میں پیشگی اطلاع دینے کا پابند بنانا شرعاًدرست ہے، اور ملازم پر حسبِ معاہدہ اس ضابطہ پر عمل کرنا لازم ہوگا ،لیکن چونکہ ملازمت کا معاہدہ شرعاً عقدِ اجارہ ہے، جس میں کام کے بدلے میں ملازم اجرت (تنخواہ) کامستحق بنتا ہے۔ لہٰذا معاہدہ میں یہ شرط لگاناکہ ملازم اگر مقررہ مدت (چار سال) سے پہلے ملازمت چھوڑ دے تو اس دوران حاصل ہونے والی پوری تنخواہ واپس کرے گا، یہ شرط ِفاسد ہے، جس کو ختم کر کے از سرنو معاملہ کرنا اور اس گناہ پر توبہ واستغفار کرنا لازم ہے ،تاہم اگر ملازم اتنے عرصہ کام کر لے تو وہ اجرت کا مستحق ہوگا، البتہ مذکورہ دورانیہ کے دوران ملازمت ترک کرنے کی وجہ سے ادارے کا ملازم کی تنخواہ ضبط کرنایا سابقہ تنخواہ کی واپسی کامطالبہ کرناجائز نہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کو جو تنخواہ مل رہی ہے ،یہ اس کے کام کی مزدوری ہے ،قرض نہیں ، سائل اس کو اپنے اخراجات میں استعمال کرسکتاہے۔
کما فی اعلاء السنن :التعزیر بالمال جائز عند أبی یوسف، وعندہما وعند الأئمۃ الثلاثۃ لایجوز، وترکہ الجمہور للقرآن والسنۃ : وأما القرآن فقولہ تعالی :{فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم} ۔ وأما السنۃ فإنہ علیہ السلام قضی بالضمان بالمثل ولأنہ خبر یدفعہ الأصول فقد أجمع العلماء علی أن من استہلک شیئاً لم یغرم إلا مثلہ أو قیمتہ اھ(باب التعزیر بالمال،ج 11،ص 733،ط: بیروت)۔
و فی الھندیۃ : والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر الخ ( کتاب الاجارۃ، الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص المشترك وهو مشتمل على فصلين، ج 4،ص 500،ط: ماجدیۃ)
و فی احکام القرآن للجصاص : تحت ھذہ الآیۃ: يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود،و اقتضى أيضا الوفاء بعقود البياعات والإجارات والنكاحات ، وجميع ما يتناوله اسم العقود ، فمتى اختلفنا في جواز عقد أو فساده وفي صحة نذر ولزومه صح الاحتجاج بقوله تعالى : { أوفوا بالعقود } لاقتضاء عمومه جواز جميعها من الكفالات والإجارات والبيوع وغيرها ( الی قولہ ) وقوله صلى الله عليه وسلم : { والمسلمون عند شروطهم } في معنى قول الله تعالى : { أوفوا بالعقود } وهو عموم في إيجاب الوفاء بجميع ما يشرط الإنسان على نفسه ما لم تقم دلالة تخصصه الخ ( سورۃ المائدۃ،ج 5،ص 185،ط: الفاروقية)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0