مجھے اس حدیث کے بارے میں بتائیں، یہ حدیث صحیح ہے کہ نہیں اور یہ اگر صحیح ہے تو اس کا حوالہ کیا ہے؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا گیاہے که جو شخص نماز کو قضا کردے، گو وہ بعد میں پڑھ بھی لے، پھر بھی اپنے وقت پر نہ پڑھنے کی وجہ سے ایک حقب جہنم میں جلے گا اور حقب کی مقدار اسى برس کی ہوتی ہے اور ایک برس تین سو ساٹھ دن کا اور قیامت کا ایک دن ایک ہزار برس کے برابر ہو گا اس حساب )
سوال میں مذکور روایت کہ "جو شخص ایک نماز قضا کردے، اگرچہ بعد میں ادا کرلے، پھر بھی ایک حقب جہنم میں جلے گا، اور حقب اسی (80) برس کا ہوتا ہے..." اس مضمون کے ساتھ کسی معتبر اور مستند کتب احادیث سےثابت نہیں ، لہٰذا مذکورہ روایت کو بطورِ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز لازم ہے۔
البتہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ جان بوجھ کر نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرکے قضا کرنا کبیرہ گناہ ہے، جس پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ اخروی مؤاخذہ سے بچنے کے لیےنمازوں کی پابندی اوروقت پرادائیگی کا اہتمام لازم ہے، بلاعذرشرعی تاخیریا قضاکرنےسےاجتناب لازم ہے۔
كما في صحيح مسلم: عن أبي سفيان قال: سمعت جابرا يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: « إن بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة ». (باب بيان إطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة، ج: 1، ص: 61، الرقم: 82، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)
وفي مسند أحمد: عن أم أيمن أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا تترك الصلاة متعمدا، فإنه من ترك الصلاة متعمدا، فقد برئت منه ذمة الله ورسوله " (ج: 45، ص: 357، الرقم: 27364، ط: مؤسسة الرسالة)
وفي تفسير مقاتل بن سليمان: «لابثين فيها» يعنى فى جهنم أحقابا- 23- يعني في جهنم أحقابا وهي سبعة عشر حقبا، يعني الأزمنة والأحقاب لا يدري عددها، ولا يعلم منتهاها إلا الله- عز وجل الحقب الواحد ثمانون سنة ، السنة فيها ثلاثمائة وستون يوما، كل يوم فيها مقدار ألف سنة، وكان هذا بمكة. (سورة النبأ، ج: 4، ص: 562، ط: دار إحياء التراث بيروت)
وفي صفة النار لابن أبي الدنيا: لابثين فيها أحقابا (النبأ: 23) " الحقب: أربعون سنة، والسنة اثنا عشر شهرا، والشهر ثلاثون يوما، ويوم (عند ربك كألف سنة مما تعدون) (ص: 84، الرقم: 119، ط: دار ابن حزم - لبنان / بيروت)
وقال العلامة زكريا الكاندهلوي بعد أن أورده في "فضائل الأعمال" (392/1) ما معناه: " لم أعثر على الحديث في دواوين السنة غير "مجالس الأبرار"، وقد أثنى عليه شيخ مشايخنا عبد العزيز الدهلوي رحمه الله تعالى".
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0