کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صحیح مسلم کی ایک روایت پر اشکال کا جواب چاہیے، صحیح مسلم کتاب النکاح میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نے ’’غیلہ‘‘ سے منع کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا یہاں تک کہ مجھے یاد آیا کہ اہلِ روم و فارس ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم، کتاب النکاح جواز الغیلہ حدیث ۲۶۱۲ ترجمہ مولانا عزیز الرحمٰن)
اشکال یہ ہے کہ رسول ﷺ نے ایک شرعی حکم دینے کا ارادہ کیا اور پھر اسے ترک کر دیا، کیا ارادہ مِن اللہ نہیں تھا، یعنی وحی شُدہ نہیں تھا، اگر تھا تو کیا اللہ کے رسول نے اسے اپنے علم کی بنیاد پر ترک کر دیا؟ اگر وحی شدہ نہیں تھا تو کیا آپﷺ نے خود سے بغیر وحی کے حکم جاری کرنے کا ارادہ فرمایا؟ امام نوویؒ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ اس سے رسول اللہﷺ کے لیے اجتہاد کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے، اس کے کیا معانی ہوں گے؟ اس مسئلہ کی جو بھی تفصیل ہے اس کی سورۃ نجم آیات ۳اور ۴ ’’وماینطق عن الھویٰ‘‘ کے حوالے سے بھی وضاحت فرما دیں۔ براہِ کرم اس مسئلہ کے مفصّل جواب سے نوازیں اگر ممکن ہو تو جواب بذریعہ ای میل ارسال فرمادیں۔
حضورﷺ کے ممانعت کا ارادہ فرمانا یہ کوئی حکمِ شرعی نہیں تھا، بلکہ امت پر شفقت کے طور پر تھا، اس لیے کہ عرب کے ہاں مشہور تھا کہ حالتِ حمل میں بچے کو دودھ پلانے سے بچے میں کمزوری آتی ہے، لیکن جب آپﷺ نے اہلِ روم اور فارس کو دیکھا کہ وہ یہ کرتے ہیں، جبکہ ان کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو آپﷺ نے اپنا ارادہ ترک فرما دیا اور یہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسا کہ آپ نے تابیر ِنخل سے منع فرمایا تھا اور یہ محض آپ کا اجتہادی معاملہ تھا جو مذکور حدیث کے منافی نہیں۔
ففی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: وعن جدامة بنت وهب قالت: «حضرت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في أناس وهو يقول لقد هممت أنهى عن الغيلة، فنظرت في الروم وفارس فإذا هم يغيلون أولادهم فلا يضر أولادهم ذلك شيئا اه
قال صاحب مرقاة تحت ھذا الحدیث: قال العلماء: وسبب همه عليه الصلاة والسلام بالنهي أنه خاف معه ضرر الولد الرضيع لأن الأطباء يقولون إن ذلك اللبن داء والعرب تكرهه وتتقيه ذكره السيوطي، قال القاضي: كان العرب يحترزون عن الغيلة ويزعمون أنها تضر الولد وكان ذلك من المشهورات الذائعة عنده فأراد النبي، صلى الله عليه وسلم، أن ينهى عنها لذلك فرأى أن فارس والروم يفعلون ذلك ولا يبالون به ثم إنه لا يعود على أولادهم بضرر فلا ينه اه(5/ 2092) والله أعلم بالصواب!
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0