میں ایک شخص جو کہ ایمازون پر ڈراپ شپنگ کرتا ہے کے پاس ماہانہ تنخواہ پر ملازمت کرتا ہوں ـــــ کام کی نوعیت اس طرح ہے کی ایک پروڈکٹ کا سپلائر ڈھونڈ کر ایمازون پر اپنے سٹور پر لسٹ کر دیتے ہیں اورکسٹمر سے آ رڈر آنے پر سپلائر سے آرڈر کرتے ہیں مگر پروڈکٹ پہلے ہمارے گودام میں آتی ہے پھر کسٹمر کو ڈیلیور کرتے ہیں اس میں میرا کام پروڈکٹ ڈھونڈنا ،لسٹ کرنا آرڈر آنے پر لیبل لینا اور کسٹمر کے سوالوں کے پروڈکٹ کی تبدیلی یا واپسی کے متعلق جوابات دینا ہے کیا اس کام کی نوعیت حلال ہے اور میری ملازمت کی نوعیت حلال ہے ؟
واضح ہو کہ ڈراپ شپنگ کے کاروبار میں چونکہ فروخت کیا جانے والا سامان قبضہ میں آنے سے قبل ہی آگے فروخت کر دیا جاتا اس لیے ڈراپ شپنگ کا کام عام حالات میں ناجائز ہے ،لہذا صورت مسؤلہ میں گودام میں جو چیز موجود نہ ہو ،سائل کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کسٹمر سے اس چیز کے خرید وفروخت کا معاملہ کرنا تو جائز نہیں ، بلکہ سائل کو چاہے کہ وہ گودام وقبضہ میں غیر موجود اشیاء سے متعلق کسٹمر کے ساتھ باقاعدہ خرید وفروخت کا معاملہ کرنے کے بجائے وعدہ بیع کر لیا کرے کہ وہ مقررہ وقت پر مطلوبہ چیز اسے فراہم کر دے گا ،اور پھر وہ چیز اپنے قبضہ اور گودام میں آنے کے بعد کسٹمر کے ساتھ معاملہ کر کےاسے ارسال کردے ،تو اس سے یہ معاملہ شرعاً بھی درست ہو جائے گا اور سائل کے لیے اس ملازمت کو جاری رکھنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔
کما فی مسند اٰحمد: عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ابتاع طعاما، فلا يبعه (3) حتى يقبضه،(ج: 9،ص: 189،رقم الحدیث: 5234،مط: مؤسسۃ الرسالۃ)
فی البحر: وأما الخاصة فمنها معلومية الأجل في البيع بثمن مؤجل ففسد إن كان مجهولا، ومنها القبض في بيع المشترى المنقول وفي الدين،اھ(كتاب البيع،باب شرائط النفاذ،ج: 5،ص: 281،)
و فی ردالمحتار: وفيه أن بيع ما ليس في ملكه باطل كما تقدم؛ لأنه بيع المعدوم، والمعدوم ليس بمال فينبغي أن يكون بيعه باطلا،اھ(كتاب البيوع،مطلب في البيع الفاسد،ج: 5،ص: 60،مط: دار الفکر )
و فی فقہ البیوع: أن یکون المبیع مقدورا التسلیم، فإن لم یکن مملوکا للبائع، فالبیع باطل، مثل أن یبیع طائرا فی الھواء لایملکہ،اھ(باب فی بیع الفاسد،ج: 2،ص: 920،مط: معارف القران )
و فی البدائع: وأما) البيع الباطل فهو كل بيع فاته شرط من شرائط الانعقاد من الأهلية والمحلية وغيرهما، وقد ذكرنا جملة ذلك في صدر الكتاب ولا حكم لهذا البيع أصلا؛ لأن الحكم للموجود ولا وجود لهذا البيع إلا من حيث الصورة اھ(كتاب البيوع،باب خيار الرؤية،ج: 5،ص: 305،مط: دار الکتب العلمیہ)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0