السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، امام صاحب نے سورہ فاتحہ کا اکثر حصہ "اھدنا صراط المستقیم" تک پڑھا، آگے بھول گیا ، پھر دوبارہ شروع سے سورہ فاتحہ پڑھی، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں ؟
واضح ہوکہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں، وتر اور سنن و نوافل کی تمام رکعتوں میں سورت ملانے سے پہلے سورۂ فاتحہ یا اس کے اکثر حصہ کا تکرار ہوجائے تو سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے، لہذاصورتِ مسئولہ میں سورۂ فاتحہ کے اکثر حصہ كے تکرار کی وجہ سے امام پر سجدۂ سہو واجب ہوگیاتھا، چنانچہ اگر امام نے سجدۂ سہو ادا کرلیا ہو تو نماز درست ادا ہوگئی، اور اگر سجدۂ سہو کیے بغیر نماز ختم کردی ہو تو ایسی صورت میں نماز کاوقت ختم ہونے سے قبل اس نمازکا اعادہ واجب ہے،لیکن اگر اس نے نماز کا وقت گزرنے سے قبل اعادہ نہ کیا ہو تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوچکی ہے،البتہ اسے اپنی اس غلطی پر توبہ واستغفار لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: (وتقديم الفاتحة)على كل (السورة) وكذا ترك تكريرها قبل سورة الأوليين
وفی رد المحتار تحت قوله وكذا ترك تكريرها إلخ) فلو قرأها في ركعة من الأوليين مرتين وجب سجود السهو لتأخير الواجب وهو السورة كما في الذخيرة وغيرها، وكذا لو قرأ أكثرها ثم أعادها كما في الظهيرية،(با ب صفۃ الصلاۃ، واجبات الصلاۃ، ج: ١، ص: ٤٦٠، مط: سعيد)
وفی الهندية: وإن تركها في الأخريين لا يجب إن كان في الفرض وإن كان في النفل أو الوتر وجب عليه، كذا في البحر الرائق، ولو كررها في الأوليين يجب عليه سجود السهو بخلاف ما لو أعادها بعد السورة أو كررها في الأخريين، كذا في التبيين.
ولو قرأ الفاتحة إلا حرفا أو قرأ أكثرها ثم أعادها ساهيا فهو بمنزلة ما لو قرأها مرتين، كذا في الظهيرية.( کتاب الصلاۃ ، الباب الثانی عشر فی سجود السہو، ج: ١، ص: ١٢٦، مط: ماجدية)
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0