زمین ٹھیکہ پردیےکر زیادہ پیسے ایڈوانس لینا اور سال کی رقم کو ان پیسوں سے منفی کرنا پھر ما لک جب زمین چھوڑانا چاہیے تو بقایا رقم واپس کر دیں یہ صورت جائز ہے کہ نہیں ؟
سائل نے سوال میں زمین ٹھیکے پر دینے کی مکمل صورت واضح نہیں کی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر کوئی شخص کسی کو زمین ایک سال یا پانچ سال وغیرہ کی متعین مد ت کے لئے کرایہ پر دیدے،اور کرایہ کی مد میں دو تین سالوں کا کرایہ پیشگی(ایڈوانس)وصول کرے تو شرعا ایسا کرنا جائز اور درست ہے۔تاہم اگر مقررہ مدت تک ٹھیکہ برقرار نہ رہے اور فریقین کی رضامندی سے طے شدہ مدت سے قبل ٹھیکداری کے معاملے کو ختم کیا جائے تو ایسی صور ت میں زمین کے مالک کے ذمہ باقی ماندہ ایام کا کرایہ ٹھیکدار کو واپس کرنا لازم ہوگا۔
کمافی الھدایۃ:
«قال: "الأجرة لا تجب بالعقد وتستحق بأحد معان ثلاثة: إما بشرط التعجيل، أو بالتعجيل من غير شرط، أو باستيفاء المعقود عليه".
وقال الشافعي: تملك بنفس العقد؛ لأن المنافع المعدومة صارت موجودة حكما ضرورة تصحيح العقد فيثبت الحكم فيما يقابله من البدل. ولنا أن العقد ينعقد شيئا فشيئا على حسب حدوث المنافع على ما بينا، والعقد معاوضة، ومن قضيتها المساواة، فمن ضرورة التراخي في جانب المنفعة التراخي في البدل الآخر. وإذا استوفى المنفعة يثبت الملك في الأجر لتحقق التسوية. وكذا إذا شرط التعجيل أو عجل؛ لأن المساواة تثبت حقا له وقد أبطله. "وإذا قبض المستأجر الدار فعليه الأجر وإن لم يسكنها"؛ لأن تسليم عين المنفعة لا يتصور فأقمنا تسليم المحل مقامه إذ التمكن من الانتفاع يثبت به.»(ج:3،ص:231،ط:داراحیاء التراث العربی،بیروت ،لبنان)
وفی الفقہ البیوع:
"وقد جرت العادة في بعض المعاملات اليوم ان احد طرفی العقد یطالب بدفع بعض المال عند الوعد بالبیع قبل انجاز العقد٬ وذالک للتاکد من جدیتہ فی التعامل...ویسمی فی العرف "ہامش الجدية" او "ضمان الجدية".... وانما ہی امانة بید البائع٬ تجری علیہ احکام الامانات. ولا یجوز لآخذہا ان یتمولہا لنفسہ٬ ولایجوز استثمارھا الا باذن مالکہا٬ بشرط ان یکون الربح لہ٬ وکذالک یجب رد ھذا المبلغ الیہ ان لم یتم انجاز العقد معہ ۔۔ولا یجوز للموسسة حجز مبلغ ہامش الجدية فی حالة نکول العمیل عند تنفیذ وعد الملزم. وینحصر حقھا فی اقتطاع مقدار الضرر الفعلی المتحقق نتيجة النکول الخ(ج:1،ص:120،ط:معارف القرآن)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0