میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی بیوی حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا کی شادی رسول اللہ ﷺ سے جنت میں یا اس دنیا سے پہلے ہوئی ہے؟ میرے یہ سوال پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میری پہلی بیوی کو سلام دینا، کیا یہ درست ہے یا نہیں؟
اس میں شک نہیں کہ حضرت آسیہ جنت میں رسول اکرم ﷺ کی بیویوں میں شمار ہوں گی اور یہ صحیح سند سے ثابت ہے، جبکہ رسول اکرم ﷺ کے مذکور فرمان کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا سے پہلے جاچکی ہے،اور آخرت میں وہ آپ کے حرم میں ہی ہوں گی۔
کما فی روح المعانی: وضرب اللہ مثلاً للذین آمنوا امرات فرعون(الآیة)
روی احمد فی مسندہ: سیدۃ نساء اھل الجنة مریم، ثم فاطمة، ثم خدیجة، ثم آسیة ثم عائشة(الیٰ قولہ) وجاء فی بعض الآثار ان مریم وآسیة زوجا رسول اللہ ﷺ فی الجنة، اخرج الطبرانی: عن سعد بن حنادة قال: قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ زوجنی فی الجنةمریم بنت عمران وامراۃ فرعون واخت موسیٰ علیہ السلام اھ (2/165)۔