کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمى منہاج خان والد محمد اياز نے اپنا ذاتی ملکیتی مکان فروخت کر دیا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس مکان کی قیمت میں میرے والدین، میری بیوی یا میری اولاد کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ میرا ایک بیٹا ہے اور دو بیٹیاں ہے، نیز میں نے جو مکان فروخت کر دیا ہے اس میں مجھے 10 لاکھ روپیہ دیے گئے ہيں اور 25 لاکھ باقی ہے، اب اس مکان کے کرایہ کا حقدار کون ہے؟ کیا پيسوں کی پوری ادائیگی تك مىں اس مكان کا کرایہ لے سکتا ہوں؟ یا اب يہ کرایہ مشتری (حضرت جانہ) کا حق بنتا ہے؟ جبکہ مکان بھی کرایہ دار کے پاس ہے، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائزتصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،لہٰذا سائل اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائیگا۔ جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اگربیوی کو کچھ دینا چاہےوہ انہیں دیکر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹا، بیٹیوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے ،محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں ، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی مال و جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے، ىہ گناہ کی بات ہے، جبكہ سائل نے جب اپنا مذکور مکان فروخت کردیا ہے، تو اس فروختگی کے نتیجہ میں یہ مکان سائل کی ملکیت سے نکل کر مشتری(خریدار) کی ملکیت میں داخل ہو چکا ہے، لہذا اب اس مکان سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی خریدار کا حق ہوگا، سائل كے لئے اس كا لينا جائز نہىں ۔
كما في الخانية: رجل له ابن وابنة أراد أن يهب لهما شيئا ويفضل أحدهما على الاخر في الهبة اجمعوا على لا بأس بتفضيل بعض الاولاد على البعض في المحبة (فصل في هبة الوالد لولده، ج:٣، ص: ٢٧ ٩، ط: ماجدية)
وفي الدر المختار: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ (کتاب الہبۃ، ج:٥، ص: ٦٩٦، ط: سعيد)
وفي الهداية: وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية اهـ [كتاب البيوع، ج3 ص:23 ط: دار إحياء التراث العربي]
وفی فقہ البیوع: وهل تثبت هذه الإجارة الجديدة من المشترى اقتضاء إن قال له البائع: "سلمت إليك الدار بأن تكون أجرتها لك منذ اليوم، وقبل ذلك المستأجر؟ الظاهر: نعم، لأن مثل ذلك يعتبر قبضاً في عرف المستغلات. وقد ثبت في قوانين أكثر البلاد أن البائع إن باع داراً مؤجرة وسجلها باسم المشترى، فإن عقد الإجارة يتحول إلى المشترى بحكم القانون، فينفسخ عقد المستأجر مع البائع، وينعقد مع المشترى. وهذا دليل ثبوت الإجارة الجديدة اقتضاء بحكم العرف الخ (القبض فی الدار المؤجرۃ۔ج 1 ص402 ط: مكتبة معارف القرآن كراتشي).
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0