سورۂ فتح کی آیت 10 میں لکھا ہے کہ "اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے"، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہیں؟
واضح ہو کہ سورۂ فتح کی آیت نمبر 10: ﴿يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ﴾ (اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے) یا اس کے علاوہ قرآن و حدیث کی جن نصوص میں اعضاء (وجہ، ساق وغیرہ) کی نسبت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے، ان کے متعلق اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ نصوص میں اللہ تعالیٰ کے لیے وارد شدہ تمام صفات ثابت ہیں، تاہم یہ صفات اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہیں۔ یہ مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہیں، اور ان کی مکمل کیفیت و حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ لہٰذا مذکورہ آیت سے اللہ تعالیٰ کے لیے مخلوق کے ہاتھوں کی طرح ہاتھ ماننے کا عقیدہ رکھنا درست نہیں، بلکہ عقیدہ یہ رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے صفتِ ید بلا کیف اور کما یلیق بشانہ ثابت ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے متعلق ضروری علم رکھنے کے علاوہ عوام الناس کو اس بارے میں مزید بحث و کلام میں پڑنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
کما فی شرح المقاصد في علم الكلام: ( قال: و منها ما ورد به ظاهرالشرع وامتنع حملها على معانيها الحقيقية ) مثل الاستواء في قوله تعالى: {الرحمن على العرش استوى} واليد في قوله تعالى: {يد الله فوق أيديهم } و { ما منعك أن تسجد لما خلقت بيدي} والوجه في قوله تعالى: {و يبقى وجه ربك} والعين في قوله تعالى: {و لتصنع على عيني} و {تجري بأعيننا} فعن الشيخ أن كلا منها صفة زائدة وعن الجمهور وهو أحد قولي الشيخ أنها مجازات فالاستواء مجاز عن الاستيلاء أو تمثيل وتصوير بعظمة الله تعالى واليد مجاز عن القدرة والوجه عن الوجود والعين عن البصر فإن قيل بجملة المكونات مخلوقة بقدرة الله تعالى فما وجه تخصيص خلق آدم صلى الله عليه وسلم سيما بلفظ المثنى وما وجه الجمع في قوله بأعيننا أجيب بأنه أريد كمال القدرة وتخصيص آدم تشريف له وتكريم ومعنى تجري بأعيننا أنها تجري بالمكان المحوط بالكلاءة والحفظ والرعاية يقال فلان بمرىء من الملك ومسمع إذا كان بحيث تحوطه عنايته وتكتنفه رعايته وقيل المراد الأعين التي انفجرت من الأرض وهو بعيد وفي كلام المحققين من علماء البيان أن قولنا الاستواء مجاز عن الاستيلاء واليد واليمين عن القدرة والعين عن البصر ونحو ذلك إنما هو لنفي وهم التشبيه والتجسيم بسرعة وإلا فهي تمثيلات وتصويرات للمعاني العقلية بإبرازها في الصور الحسية وقد بينا ذلك في شرح التلخيص. (المبحث السابع في صفات اختلف فيها، ج:2، ص:110، ط:دارالمعارف)
آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0