مولانا الطاف حسین حالی اور مولانا شبلی نعمانی کے عقائد کیسے تھے؟ اور کیا حالی کے درج ذیل اشعار شرک ہیں؟
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
خطا کار سے در گزر کرنے والا بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کو زیر و زبر کرنے والا قبائل کو شیر و شکر کرنے والا
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایا کھرا مرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پر قرنوں سے تھا جہل چھایا پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا
(1) مولانا الطاف حسین حالی اور مولانا شبلی نعمانی کے عقائد:
مولانا الطاف حسین حالیؒ (متوفی 1914ء) اور علامہ شبلی نعمانیؒ (متوفی 1914ء) برصغیر کے معروف اہلِ علم، ادیب اور سوانح نگار تھے۔ دونوں حضرات عقائد و فقہ میں اہلِ سنت والجماعت (حنفی) سے وابستہ تھے۔ تاہم یہ حضرات معصوم نہ تھے، اس لیے ان کی بعض علمی آراء یا تعبیرات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن محض چند اجتہادی لغزشوں یا قابلِ نقد عبارات کی بنا پر ان کے اہلِ سنت ہونے کی نفی درست نہیں۔
(2) مذکورہ اشعار کا حکم:
حالی کے یہ اشعار دراصل حضور اقدس ﷺ کی نعت اور آپ ﷺ کے اخلاق، شفقت، دینی و اجتماعی خدمات کے بیان پر مشتمل ہیں۔ ان میں وارد الفاظ مثلاً: "غریبوں کی مرادیں بر لانے والا"، "فقیروں کا ملجا"، "غلاموں کا مولیٰ" وغیرہ اگر اس اعتقاد کے ساتھ کہے جائیں کہ یہ سب امور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اسباب اور ظاہری دائرے میں، آپ ﷺ کی رحمت، شفقت، دعا اور قیادت کے نتیجے میں ہیں تو ان میں شرک لازم نہیں آتا، کیونکہ عربی و اردو ادب میں ایسی تعبیرات مجازاً مستعمل ہیں۔
البتہ اگر ان الفاظ سے یہ عقیدہ مراد لیا جائے کہ نبی کریم ﷺ بالاستقلال، اللہ تعالیٰ کی عطا اور مشیت کے بغیر، ہر زمان و مکان میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتے ہیں تو ایسا عقیدہ شرعاً درست نہیں ہوگا، کیونکہ حقیقی نافع و ضار اور حاجت روا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
لہٰذا مذکورہ اشعار کو ان کے ادبی اور تاریخی سیاق میں، مجازی اور عطائی معنی پر محمول کیا جائے گا، اور محض ان اشعار کی بنا پر حالیؒ پر شرک کا حکم لگانا درست نہیں۔