السلام وعلیکم ،
ایک شرعی کمپنی کے شیئرز خریدنے کے بعد نقصان میں چل رہے ہیں اور اب وہ میزان اسلامک انڈیکس سے باہر ہو گیا ہے کیا میں اس کو نقصان میں بیچ دوں یا پھر انتظار کروں کے جب وہ اپنی قیمت خرید پر آجاۓ تب بغیر منافع یا نقصان میں بیچ دوں ۔
شکریہ ۔
اگرکوئی کمپنی شئیرزکی خریداری کے وقت شرعی معیارات کے مطابق ہولیکن بعدمیں وہ شرعی معیارات برقرارنہ رکھ سکے ،جس کی بنیادپروہ میزان اسلامک انڈیکس سے خارج کردی جائے توایسی صورت میں اس کے شیئرز کو بلا ضرورت اپنے پاس روکے رکھنا مناسب نہیں۔بلکہ جلدازجلدایسی غیرشرعی معاملات میں ملوث کمپنی سے اپنی شراکت داری ختم کرناضروری ہے ،تاکہ تعاون علی الاثم لازم نہ آئے ،لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کے لیے مذکورشئیرزکے دوبارہ قیمت خریدتک پہچنےکاانتظارکرنے کے بجائے موجودہ مارکیٹ ویلیوکے حساب سے ان شئیرزکوفروخت کردیناچاہیے ، خواہ اس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢﴾ [المائدة: 2]
وفی «تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن» : قوله تعالى: (وتعاونوا على البر والتقوى) قال الأخفش: هو مقطوع من أول الكلام، وهو أمر لجميع الخلق بالتعاون على البر والتقوى، أي ليعن بعضكم بعضا، وتحاثوا على ما أمر الله تعالى واعملوا به، وانتهوا عما نهى الله عنه وامتنعوا منه(6/ 46)
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0