جناب اعلیٰ: درج ذیل معاملے پر دینی و شرعی مشورہ اور فتوی جاری فرمادیں۔
ہم دو بھائی نے مل کر ایک عدد دوکان 2006 میں پگڑی پر لی اور 3,50,000 روپے (ساڑھے تین لاکھ روپے ) ادا کئے ، دوکان کا کرایہ اس وقت کے حساب سے -/ 1000 روپے ماہانہ لکھا گیا، اور آج تک ہم مالک دوکان کو -/ 1000 روپے ادا کر رہے ہیں۔ مورخہ 2012 تک دوکان ہمارے استعمال میں تھی، لیکن کا روبار میں نقصان ہونے کی وجہ سے ہم نے دوکان کرائے پر دے دی، اس وقت ہم نے 10000 ( دس ہزار روپے ) روپے کرائے پر دیا جس کا نصف - /5000 میں لیتا تھا اور -/5000 روپے میرا بھائی لیتا تھا۔ 2022 میں میرے بھائی نے اپنا نصف حصہ اسماعیل نامی شخص کوفرو خت کر دیا ،اس وقت دوکان کا کرایہ 40000 روپے ہیں، جس میں سے ہم ایک ہزار مالک دوکان کو دیتے ہیں اور 39,000 آپس میں بانٹ لیتے ہیں ۔ اب جبکہ مالک دوکان کا انتقال ہو چکا ہے ہم اس کی بیوہ کو ایک ہزار روپے دیتے ہیں۔
اب شرعی اور دینی اعتبار سے مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میں اپنا نصف حصہ19500 لے رہا ہوں وہ جائز ہے یا نا جائز ہے۔
واضح ہو کہ مروّجہ پگڑی کا معاملہ جس میں خطیر رقم کے عوض دکان یا مکان پرمستقل حق تصرف حاصل کرلیا جاتاہےشرعاً ناجائز ہے،نیز اس کی وجہ سے مکان وغیرہ اصل مالک کی ملکیت سے نہیں نکلتا،بلکہ بدستور اصل مالک ہی کی ملکیت میں برقرار رہتاہے،چنانچہ مالک کے انتقال کی صورت میں اس میں وراثت بھی جاری ہوتی ہے،چونکہ یہ معاملہ شرعاً ناجائز ہے، لہذاصورت مسئولہ میں جلد از جلددکان اصل مالک کےورثاءکے حوالے کرکےاپنی اصل رقم ساڑھےتین لاکھ لیکر اس ناجائزمعاہدہ کو ختم کرتے ہوئے اس گناہ پرتوبہ واستغفار اوراس معاملہ کو فسخ کرنا لازم ہے،تاہم سائل آئندہ اگر دکان حاصل کرناچاہتاہوتوشرعی اصولوں کے مطابق دوبارہ عقد اجارہ یا خرید وفروخت کے ذریعہ دکان حاصل کی جاسکتی ہے۔
كما في الدر المختار: وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها اهـ (كتاب البيوع ، مطلب في بيع الجامكية، ج:4 ص:518 مط: ايچ ايم سعيد)
وفي فقه البيوع: فان بدل الخلو الذي يأخذه المؤجر في أول العقد لا ينطبق على مثل حق القرار الذي جوزه المتأخرون في الأراضي الوقفيۃ والسلطانيۃ ومن المقرر أن العاقد لا يجوز له أن يطالب العاقد الآخر بعوض عن مجرد دخوله في العقد علاوة على ما يستحقه بالعقد فانه رشوة (إلى قوله) نعم! يجوز له أن يسترد منه ما دفع كبدل الخلو عند بداية العقد فإنه رشوة، يجب ردها إلى الدافع اهـ
وأما المسألة الثالثة، وه وهي: هل يجوز للمستأجر القديم أن يطالب المستأجر الجديد مقابلاً لحقه فى البقاء على الإجارة؟، فالذين يجوزون بدل الخلو يجوزون ذلك أيضاً. أما على القول بمنع بدل الخلو، فإن كانت الإجارة غير محددة المدة، كما هو معروف في المؤجرات على سبيل الخلو، فلا يجوز أخذ هذا البدل من المستأجر الجديد. نعم! إذا حددت مدة أصل الإجارة، ثمّ تنازل المستأجر عن حقه قبل تلك المدة لمستأجر جديد، فإنّه يجوز له أن يأخذ عوضاً عن هذا التنازل اهـ(خلو الدور والحوانيت، ج: 1، ص: 262۔264، مط: مكتبة معارف القرآن کراتشی)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0