اجرت و کرایہ داری

کمیشن لینے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
99093
| تاریخ :
2026-09-06
معاملات / مالی معاوضات / اجرت و کرایہ داری

کمیشن لینے کی ایک صورت کا حکم

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم! مندرجہ ذیل سوالات سے متعلق آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
1. اگر Freight Brokerage میں صورت یہ ہو کہ شپر اپنی بھیجی جانے والی کھیپ کی ترسیل کے لیے بروکر سے مثلاً 3,000 ڈالر کا معاملہ طے کرتا ہو، پھر بروکر کسی موٹر کیریئر سے وہی کھیپ 2,500 ڈالر میں پہنچانے کا معاملہ طے کرتا ہے، اور بروکر دونوں فریقوں کے درمیان ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے کے عوض 500 ڈالر اپنے پاس رکھتا ہے اور یہ معاملہ کمپنی پر واضح ہوتا ہے کہ بروکر اتنی رقم کے عوض گاڑی کا انتظام کرتا ہے اور اس کے عوض 500 ڈالر معاوضہ رکھتا ہے تو کیا یہ 500 ڈالر شرعاً بروکری، وکالت یا کسی دوسرے جائز عقد کے تحت حلال ہے؟
2.امریکہ میں Freight Broker کے لیے BMC-84 Surety Bond کے تحت $75,000 کی مالی ضمانت جمع کرنا قانونا لازم ہے۔ اس میں شورٹی بانڈ کمپنی بروکر کی طرف سےشپر کمپنی ( company (Shipper یا Motor Carrier کے مالی حق کی ادائیگی کی ضمانت دیتی ہے، کیا یہ معاملہ شرعی اعتبار سے عقدِ کفالت یا ضمان کے حکم میں ہے، جبکہ اس کے علاوہ کمپنی کی کوئی خدمات نہ ہوں؟
3- شورٹی بانڈ BMC-84 کمپنی بروکر سے اس مالی ضمانت کے عوض سالانہ Premium (3,387.50$) وصول کرتی ہے، اگرچہ اس دوران کوئی Claim نہ ہو۔ کیا کسی مالی حق کی ضمانت دینے کے عوض یہ Premium بطور اجرت لینا شرعاً جائز ہے؟ نیز اگر اس Premium میں انتظامی یا دیگر حقیقی اخراجات شامل ہوں تو ان کا کیا حکم ہے؟ معاہدے میں **Attorneys’ Fees، Consultants’ Fees، Collection Costs** اور دیگر اخراجات بھی بروکر سے وصول کرنے کی شرط ہے۔ ان اخراجات میں کون سے شرعاً جائز اور کون سے ناجائز ہوں گے؟
4- اگر Broker کے خلاف کوئی جائز Claim ہو اور Surety Company اس کی طرف سے مثلاً $5,000 ادا کردے، پھر Indemnity Agreement کے تحت Broker سے ادا شدہ رقم اور واقعہ کی تحقیق پر آنے والے متعلقہ اخراجات واپس وصول کرے تو کیا یہ طریقۂ واپسی شرعاً جائز ہے؟ کیا کمپنی تاخیر کی صورت میں وقت کے بدلے اضافی رقم کی وصولی کا کیا حکم ہے؟ اگر معاہدے میں **Interest، Late Interest یا Finance Charge** کی شرط موجود ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا، اگرچہ سائل کا ارادہ اسے کبھی استعمال کرنے کا نہ ہو؟
5. ہمارے پاس BMC-85 متبادل طریقہ ہے، کیونکہ اس میں صرف بینک کے اکاؤنٹ میں $75,000 کی رقم جمع کرانی ہوتی ہے اور کلیم کی صورت میں ہمارےاکاؤنٹ سے رقم کی وصولی کی جاتی ہے، البتہ سائل کے پاس یہ رقم موجود نہیں، لیکن ایک اہم امر اس میں یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ رقم بینک سیونگ اکاؤنٹ میں اپنی مرضی سے رکھے، ہمیں اس پر سود نہیں ملےگا، کیارقم نہ ہونے کی مجبوری کی وجہ سے BMC-84 اختیار کرنے کی شرعاً گنجائش ہوسکتی ہے ؟
6. اگر BMC-84 میں کوئی شرعی خرابی ہو، لیکن امریکہ میں قانونی طور پر Freight Brokerage چلانے کے لیے یہ ضمانت ضروری ہو اور کوئی قابلِ عمل شرعی متبادل موجود نہ ہو، تو کیا حاجت یا ضرورت کی بنا پر اس کی اجازت ہوسکتی ہے؟
7. اگر Freight Broker کو Carrier کی ادائیگی کے لیے فوری نقد رقم کی ضرورت ہو اور وہ اپنی واجب الوصول رقم (Receivable) کو کسی Factoring Company کے ذریعے پیشگی ادا کرکے اس کے بدلے کمپنی کو فیس دی جاتی ہے یعنی اس پر کمپنی اضافی رقم لیتی ہے تو اس طریقے کا شرعی حکم کیا ہے؟
8. فریٹ بروکریج کا کاروبار شروع کرنے یا جاری رکھنے کے لیے اگر Interest-bearing Business Loan یا ایسا Credit Arrangement لیا جائے جس میں قرض کی اصل رقم سے زائد رقم بطور سود ادا کرنا لازم ہو، تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
9۔ اگر Freight Broker سے حرام اشیاء (شراب، سور کا گوشت وغیرہ) کی ترسیل کا کام لیا جائے تو کیا اس کا انجانے يا جان بوجھ کر انتظام کرکے کمیشن لینا جائز ہے؟ اور اگر ایک shipment میں حلال و حرام دونوں اشیاء ہوں اور حلال زیادہ ہوں، لیکن حرام بھی ہوں تو کیا حکم ہوگا؟
10. آخر میں، مذکورہ تمام تفصیلات اور معاہدے کی شرائط کی روشنی میں **BMC-84 حاصل کرکے Freight Brokerage کا کاروبار کرنا مجموعی طور پر شرعاً جائز ہے یا نہیں؟** اگر ناجائز ہے تو ناجائز حصے کی وضاحت اور اس کی جائز متبادل صورت بیان فرمائی جائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1)سوال ميں درج كرده تفصیل كےمطابق سائل اگر شپر کمپنی کے مطالبے(Demand) پر سامان منتقل کرنے کےلیے اسے گاڑی کا انتظام کرتا ہو تو ایسی صورت میں سائل کی حیثیت وکیل اور ایجنٹ کی ہوگی،اور مذکور خدمات فراہم کرنے پر سائل کےلئے اجرت لینا جائز ہے،لہٰذا سائل کےلئے مذکورہ طریقہ کار کے مطابق Freight Brokerage فی نفسہ جائز ہے،اور اس کام کا معاوضہ لینا شرعاً حلال ہے۔
لما في الفتاوى الهندية :
إذا وكّل الرجل رجلا بأن يستأجر له دارا بعينها ببدل معلوم ففعل فالآجر يطالب الوكيل بالأجرة والوكيل يطالب الموكل وللوكيل أن يطالب الموكل بالأجرة، وإن لم يطالبه الآجر وإذا وهب الآجر من الوكيل صح وللوكيل أن يرجع بالأجر على الآمر، كذا في الذخيرة. (4/ 513)
لما في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي :
تصح الوكالة بأجر وبغير أجر؛ لأن النبي صلّى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات ويجعل لهم عمولة ... ولأن الوكالة عقد جائز لا يجب على الوكيل القيام بها، فيجوز أخذ الأجرة فيها، بخلاف الشهادة فإنها فرض يجب على الشاهد أداؤها. إن كانت الوكالة بغير أجرة فهي معروف من الوكيل، وإذا كانت الوكالة بأجر أي (بجعل) فحكمها حكم الإجارات. (5/ 4058)
(2،3)۔جہاں تک سائل کے دوسرے سوال کا تعلق ہے جس میں سائل اور شورٹی کمپنی کے درمیان ضمانت کا عقد ہوتاہے تو سائل کا 84- BMC شورٹی بانڈ کمپنی سے مالی ضمانت کا معاہدہ کرنا بذات خود ایک جائز عمل ہے اور یہ معاملہ عقدِ کفالت کے تحت آتا ہے، جس میں 84- BMC شورٹی بانڈ کمپنی کا، بروکر کی جانب سے مستقبل میں کسی وقت رقم کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں از خود رقم کی ادائیگی کی ذمہ داری لینا فقہی اصطلاح میں " ضمان بالدّرک" کہلاتا ہے اور فقہ حنفی کی رو سے ضمان کی یہ صورت جائز ہے، تاہم ضمانت وکفالت کا عقد چونکہ شریعت کی نظر میں قابلِ عوض عقد نہیں، بلکہ عقدِ تبرع ہے،اس لئے کمپنی کا بروکر کی طرف سے مستقبل میں محض ضمانت کے بدلے فیس لینا شرعاً ناجائز ہے، البتہ ضمانت لینے اور اس کا انتظام کرنے پر اگر واقعتاً کمپنی کو کچھ حقیقی اخراجات اٹھانے پڑتے ہوتو کمپنی ان اخراجات کا مطالبہ کرسکتی ہے بشرطیکہ یہ اخراجات طے شدہ ہوں، مالی ضمانت کے کم یا زیادہ ہونے سے اس پر فرق نہ پڑے۔
الهداية في شرح بداية المبتدي :
قال: "ويجوز تعليق الكفالة بالشروط" مثل أن يقول ما بايعت فلانا فعلي أو ما ذاب لك عليه فعلي أو ما غصبك فعلي. والأصل فيه قوله تعالى: {وَلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ} [يوسف:72] والإجماع منعقد على صحة ضمان الدرك، ثم الأصل أنه يصح تعليقها بشرط ملائم لها مثل أن يكون شرطا لوجوب الحق كقوله إذا استحق المبيع، أو لإمكان الاستيفاء مثل قوله إذا قدم زيد وهو مكفول عنه، أو لتعذر الاستيفاء مثل قوله إذا غاب عن البلدة. (3/90)
ولما في توثيق الديون :
٩٢ - إن المقرّر في الفقه الإسلامي أن الكفالة تبرع محض لا يجوز أخذ الأجرة عليه...فهو عقد بين الكفيل والمكفول له، ولكنه عقد تبرع، وليس عقد معاوضة، وقد نقل ابن المنذر رحمه الله تعالى الإجماع على ذلك، فقال: «أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم أن الحمالة (وهي الكفالة) بجعل يأخذه الحميل (أي الكفيل) لا تحل ولا تجوز».
٩٣ - ثم اختلف الفقهاء في تعليل عدم الجواز، فذكر ابن قدامة رحمه الله تعالى أنه مبني على كونه من شُعَب الربا، لأن الكفيل إن أدى الدين إلى الطالب، فإنه أقرض المكفول عنه، وما يأخذه على ذلك، زيادة مشروطة على القرض، وهو ربا. ولكن علله السرخسي رحمه الله تعالى بأن ما يأخذه الكفيل رشوة. وقد ذكرت التعليلين في كتابى «فقه البيوع، ورجحت تعليل السرخسي رحمه الله تعالى. (الكفالة من عقود التبرعات وليست عقد معاوضة، ص: 88، 89، ط: مكتبة معارف القرآن)
ولما في فقه البيوع :
لكن الذى لا يجوز أخذ العمولة عليه هو الضمان نفسه، وهو الذى يجب أن يكون تبرّعاً. أما إصدار خطاب الضمان، فليس من واجبات الكفيل، ولا أن يقوم بكتابته وإصداره تبرّعاً، فيجوز أن يتقاضى على ذلك أجرة. الأصل أن لا يتجاوز أجر مثل الكتابة، فلا ينبغى أن تكون العمولة مرتبطة بمبلغ الضمان. (الفقرة، 552، 1114/2، ط: مكتبة معارف القرآن)
(4)۔ 84- BMC شورٹی بانڈ کمپنی سے فیس کے عوض مالی ضمانت کا عقد بذات خود ناجائز ہے (جیسا کہ جواب نمبر(2،3) کے تحت وضاحت گزر چکی ہے)۔تاہم اگر بروکر اور شورٹی بانڈ کمپنی کے درمیان (کسی مجبوری وغیرہ) کی وجہ سے یہ عقد اور معاملہ ہوجائے اور پھر اس عقد کے تحت شورٹی کمپنی بروکر کی طرف ہرجانہ ادا کرے تو ایسی صورت میں کمپنی کی طرف سے ہرجانہ (Claim) ادا کرنے کے بعد بروکر کے ذمّہ بطور ہرجانہ ادا کی گئی رقم کے بقدر اصل رقم کمپنی کو ادا کرنا شرعاً لازم ہے اور واقعہ کی تحقیق کے لیے اگر واقعتاً کمپنی کو کچھ اخراجات ادا کرنے پڑتے ہوں تو کمپنی کو ان کے مطالبہ کا حق بھی حاصل ہوگا، البتہ ہرجانے (Claim)کی بر وقت ادائیگی نہ کرنے پر بروکر سے اضافی رقم کا مطالبہ کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے جس سے بچنا شرعاً لازم ہے۔
سنن ابن ماجه:
حدثنا هشام بن عمار والحسن بن عرفة، قالا: حدثنا إسماعيل ابن عياش، حدثني شرحبيل بن مسلم الخولاني، قال:سمعت أبا أمامة الباهلي يقول: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "الزعيم غارم، والدين مقضي" .(رقم الحديث: 2405، باب الكفالة، دار الرسالة العالمية)
لما في رد المحتار:
(قوله: كل قرض جر نفعا حرام): أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه. (5/ 166، دار الفكر)
(5)۔ سائل کا فریٹ بروکریج (Freight Brokerage)کا کام کرنا فی نفسہ شرعاً جائز ہے،اسی طرح کسی تھرڈ پارٹی(فرد یا کمپنی) کی طرف سے سائل کی طرف سے مالی ضمانت لینا بھی شرعاً جائز ہے،البتہ فقط اس مالی ضمانت کے عوض کچھ فیس لینے کی شرعاً اجازت نہیں(جیسا کہ ما قبل میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے)،تاہم ضمانت لینے والی کمپنی (شورٹی بانڈ کمپنی) خطاب الضمان (Guarantee Letter) ایشو کرنے یا دیگر کاغذی کارروائی کرنے کے بدلے کوئی معروف مقدار میں فیس طے کرکے سائل سے وصول کرے تو ایسی صورت میں وہ فیس لینا شرعاً جائز اور درست ہوگا،چنانچہ ایسا کرنے سے ضمانت لینے کا یہ معاملہ شرعاً جائز اور درست ہوگا،جبکہ سائل نے سوال میں متبادل جس طریقہ کار کا ذکرکیا ہے ،اس میں چونکہ بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانی پڑتی ہے،اور سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا بینک کے ساتھ ایک سودی معاہدہ کرنا ہے،پھر اگر چہ سائل کو اس کا منافع (سود) نہ ملے تب بھی چونکہ کسی مسلمان کےلئے سودی معاہدہ کا حصہ بننا شرعاً جائز نہیں،اس لئے سائل کےلئے متبادل کے طور پر سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کا طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں۔
ولما في فقه البيوع :
٥١٥- الثالث: فتح حساب التوفير أو الوديعة الثابتة. وحساب التوفير (Saving Account) حساب يُعطى الحق لصاحب الحساب أن يسحب حدًّا معينًا من المبالغ المودعة فيه، ويعطي البنك على ذلك فائدة ربوية بنسبة أدنى من النسبة التي تُعطى لصاحب الوديعة الثابتة (Fixed Deposit) التي تُودع فيها الأموال إلى مدة معينة وتعطي البنوك لأصحابها فائدة بنسبة أعلى، وكل واحد من الحسابين رِبويٌّ بحت، والإيداع في هذين الحسابين حرام شرعًا؛ لكونه تعاقدًا بالربا.. (الفقرة:515، 1063/2، ط: مكتبة معارف القرآن)
(6)۔ مذکور کاروبار کو شرعی طور پر سر انجام دینے کےلئے متبادل طریقہ موجود ہے،(جسکی تفصیل گزرچکی ہے) اس لئے ضرورت وحاجت کا سہارا لینے کے بجائے شرعی طریقہ کار کے مطابق کام کرنے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
7،8) سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق فیکٹرنگ کمپنی کا کیرئیر کو پیشگی واجب الادا رقم ادا کرنے پر بروکر سے اضافی رقم کا مطالبہ کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے، جس سے بچنا شرعاً ضروری ہے۔ اسی طرح کاروبار شروع کرنے یا جاری رکھنے کے لیے سودی قرض لینا بھی شرعاً جائز نہیں ہے۔
لما في رد المحتار: (5/ 166، دار الفكر)
(قوله: كل قرض جر نفعا حرام): أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه.
9) واضح ہو کہ شپر کمپنی کا مال منتقل کرنے کے لیے گاڑی کا انتظام کر نا اور اس پر متعین اجرت لینا بذات خود جائز کام ہے (جیسا کہ جواب نمبر 1 کے تحت تفصیل گزر چکی ہے) البتہ جان بوجھ کر حرام اشیاء (شراب، خنزیر کا گوشت وغیرہ) کی ترسیل کے لیے گاڑی کا انتظام کرنا گناہ میں اعانت ہے، لہذا اگر کسی خاص معاملے میں بروکر کو حرام اشیاء کی منتقلی کا علم ہو تو ایسی صورت میں کمپنی کا حرام مال منتقل کرنے کے لیے گاڑی کا انتظام کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ اگر علم میں نہ ہو کہ گاڑی میں بھیجی جانے والی چیز حرام ہے تو ایسی صورت میں اگرچہ اسے گناہ نہیں ہوگا، لیکن بعد میں علم ہونے پر حرام چیزوں کی ترسیل کی بقدر ملنے والی اجرت حلال نہ ہوگی اور اتنی مقدار میں اجرت بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا لازم ہوگا ، نیز اگر کسی خاص عقد میں بھیجی جانے والی اشیاء حلال اور حرام دونوں کا مجموعہ ہوں تب بھی حرام اشیاء کی ترسیل کا عقد جائز نہیں ہوگا۔
ولما في فقه البيوع : (193/1، ط: مكتبة معارف القرآن)
وإن لم يكن مُحرّكا وداعيًا، بل موصلاّ محضًا، ومع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامته المعصية إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريمًا بشرط أن يعلم به البائع والآجر، من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذورًا، وإن علم وصرح كان داخلًا في الإعانة المحرمة. وإن كان سببًا بعيدًا بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالتها الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فكره تنزيهًا.
10) مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ فریٹ بروکری کا مذکور کام بذات خود جائز ہے، اسی طرح کسی فرد یا کمپنی کا بروکر کی مالی ضمانت لینا بھی جائز ہے، البتہ فقط اس ضمانت کے عوض فیس لینا جائز نہیں جس کا متبادل طریقہ ما قبل میں ذکر کیا جاچکا ہے، چنانچہ اس متبادل طریقے پر عمل کرتے ہوئے یا کسی فرد یا کمپنی سے بغیر اجرت کے مالی ضمانت لیتے ہوئے یا مستند مفتیان کرام کی زیرپرستی کام کرنے والے غیرسودی بینک سے مدد لیتے ہوئے اس کام کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس آفریدی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 99093کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • گھاس کاٹنے والے کو آدھی گھاس اجرت میں دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   اجرت و کرایہ داری 0
  • بقرہ عید پر گائے کھڑی کرنے کی پارکنگ لگانے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   اجرت و کرایہ داری 0
  • حرام آمدن والے کو مکان کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • کمپنی کا مال فروخت کرنے پر کمیشن لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • کمپنی کے ملازم کا کمیشن لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • جرگہ کے منصفین کا ، فریقین کے درمیان فیصلوں پر اجرت لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • زیادہ ایڈوانس رقم کی وجہ سے کرایہ میں کمی کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • تعلیمِ قرآن پر اجرت لینا

    یونیکوڈ   انگلش   اجرت و کرایہ داری 0
  • ایمازون پر ورچوئل اسٹینٹ کی حیثیت سے کام کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • تعلیمِ قرآن پر اُجرت لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • ایزی پیسہ اور جاز کیش میں اضافی چارجز لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • کرایہ کی تعیین کا حق اور حقِ شفعہ مالک کا ہے یا کرایہ دار کا ؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • امامت اور دیگر دینی امور و اعمال پر اجرت کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 3
  • بے ضابطگی کرنے پر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • نماز جنازہ کیلئے کسی امام کا مخصوص اجرت لینا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • تعمیر سے پہلے بلڈنگ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • قسطوں پر گھر بیچنے کے بعد کرایہ کا حقدار کون ہوگا ؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • کمیشن ایجنٹ کا فریقین کو بتلائے بغیر اپنا کمیشن رکھنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • غیر مسلم ٹھیکدار , جو کرپشن بھی کرتا ہو , اس کے پاس کام کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • میڈیکل اسٹور والوں کو لائسنس کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • قادیانی بچوں کو انگلش پڑھاکر فیس لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • ڈاکٹر کا مریض ریفر کرنے پر میڈیکل اسٹور والے سے کمیشن لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کسٹمرز لانے پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • دودھ کے لئے بھینس کرائے پر لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
Related Topics متعلقه موضوعات