السلام علیکم!
۱۔کیا نماز کی ایک رکعت میں دو سورتوں کو پڑھ سکتے ہیں؟ جن سورتوں کی انتہاء سجدے والی آیت پر ہوتی ہے ، ان میں سجدہ کرنے کے فوراً بعد رکوع کریں یا کچھ اور آیت بھی پڑھیں ، نیز نماز میں دو سورتوں کے درمیان بسم اللہ پڑھنا کیسا ہے؟
۲۔ عورتوں کو ابرؤوں میں سے بال نکالنے کی کب اجازت ہے؟
۳۔ کیا لڑکیاں انٹرنیٹ استعمال کر سکتی ہیں؟ جبکہ مقصد تبلیغِ دین ہو ، کیونکہ آج کل اگر ہم اس کا صحیح استعمال کریں تو اس کے بے شمار فائدے ہیں ، نیز غیرمحارم سے نیٹ پر بات کرنا اس مقصد سے کیسا ہے؟
۱۔فرائض میں افضل یہی ہے کہ فاتحہ کے بعد ایک ہی سورت پڑھی جائے ، البتہ نوافل میں دو سورتیں یا زائد بھی پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ، جبکہ دو سورتوں کے درمیان بسم اللہ پڑھنا مستحسن ہے اور جن سورتوں کے آخر میں آیتِ سجدہ ہو تو تلاوت کے فوراً بعد رکوع کر لینے سے سجدۂ تلاوت خود بخود سجدۂ صلاتیہ میں ادا ہو جاتا ہے ، لیکن اگر رکوع کی بجائے فوراً سجدۂ تلاوت کر لیا تو اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ سجدہ کے بعد جب کھڑا ہو تو دوسری سورت کا کچھ حصہ پڑھ کر رکوع کرے۔
۲۔ ابرو کے بال اگر بہت زیادہ گھنے اور موٹے ہوں اور اس کی وجہ سے شوہر نفرت کرتا ہو ، تو اُسے خوش رکھنے کی خاطر ان کو درست کر کے عام حالت کے مطابق کرنا جائز ہے۔
۳۔ انٹرنیٹ کا استعمال فی نفسہٖ مرد و عورت دونوں کے لۓ جائز ہے ، لیکن عمومی طور پر اس کا غالب استعمال ناجائز امور میں ہو رہا ہے ، اس لۓ لڑکیوں کا ، خصوصاً نیٹ پر غیر محارم سے بات کرنے میں فتنے کا قوی اندیشہ ہے ، اس لۓ اس سے احتراز لازم ہے۔
فی حاشية ابن عابدين : (قوله سورة) أشار إلى أن الأفضل قراءة سورة واحدة ؛ ففي جامع الفتاوى : روى الحسن عن أبي حنيفة أنه قال : لا أحب أن يقرأ سورتين بعد الفاتحة في المكتوبات ، و لو فعل لا يكره ، و في النوافل لا بأس به اھ (1/ 492)۔
و فی الفتاوى الهندية : و لو كانت بختم السورة فالأفضل أن يركع بها و لو سجد و لم يركع فلا بد من أن يقرأ شيئا من السورة الأخرى بعدما رفع رأسه من السجود و لو رفع و لم يقرأ شيئا و ركع جاز ، و إن لم يركع و لم يسجد و تجاوز إلى موضع آخر فليس له أن يركع بها و عليه أن يسجد ما دام في الصلاة و لو كانت السجدة في آخر السورة و بعدها آيتان أو ثلاث فهو بالخيار إن شاء ركع بها و إن شاء سجد فإذا أراد أن يركع بها جاز له أن يختم السورة و يركع و لو سجد بها ثم قام يختم السورة و يركع فإن وصل إليها شيئا آخر من سورة أخرى فهو أفضل ، هكذا في المضمرات . (1/ 133)۔
وفی حاشية ابن عابدين : فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ، ففي تحريم إزالته بعد ، لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين ، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء . و في تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب اهـ ، و في التتارخانية عن المضمرات : و لا بأس بأخذ الحاجبين و شعر وجهه ما لم يشبه المخنث اهـ و مثله في المجتبى تأمل اھ (6/ 373)۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0