محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
رمضان المبارک کے حوالے سے چند سوالات آپ سے پوچھنے ہیں، اُمید ہے آپ اپنے مصروف اوقات کے باوجود ہمارے لیے کچھ وقت نکال کر ان سوالوں کا جواب مرحمت فرمائیں گے اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے !
سوال نمبر۱: سفر میں تراویح پوری پڑھی جائے گی یا چھوڑنے کی گنجائش ہے؟
سوال نمبر۲:کیا معتکف کے لیے غسل ٹھنڈک کی اجازت بھی ہے یا نہیں؟ کیا معتکف مسجد کے غسل خانوں میں غسل ٹھنڈک کر سکتا ہے؟
سوال نمبر۳: لیلۃ القدر سال میں کتنی بار آتی ہے ؟ رمضان المبارک میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں روزہ ہمارے ملک پاکستان سے ایک دن پہلے آتا ہے اور اگر فرض کریں کہ لیلۃ القدر ستائیسویں شب کو ہے تو کیا وہ ہر ملک کی ستائیسویں شب کے لیے الگ الگ رات ( لیلۃ القدر) تصور کی جائے گی؟ برائے مہربانی اس تشویش کو دور فرمائیے ؟
۱۔ اگر سفر کے دوران کسی جگہ ٹھرے ہوے ہوں تو حالت سفر میں بھی پوری تراویح پڑھنا مسنون ہے اور اگر سفر جاری کا ہو یا تراویح میں مشغولیت کی وجہ سے گاڑی نکلنے یا قافلہ کے چلے جانے وغیرہ کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں تراویح کے بجاے صرف عشاء کے فرض اور وتر پڑھ لینا کافی ہے۔
۲۔ معتکف کا غسلِ ٹھنڈک کے لیے مسجد سے نکلنا تو جائز نہیں، البتہ معتکف اگر کسی دوسری حاجت کے لیے نکلے اور اس دوران کم سے کم وقت میں غسل ٹھنڈک بھی کر لے تو اس میں حرج نہیں اور اس سے اعتکاف بھی فاسد نہ ہوگا۔
۳۔ لیلۃ القدر پورے سال میں ایک بار ہی ہوتی ہے، مگر اس کے لیے کوئی رات مخصوص نہیں، اس لیے نمازوں وغیرہ کے اوقات کی طرح ہر جگہ ملک و مقام کے حساب سے آتی ہے۔
كما في الدر المختار: (ويأتي) المسافر (بالسنن) إن كان (في حال أمن وقرار وإلا) بأن كان في خوف وفرار (لا) يأتي بها هو المختار اھ (2/ 131)
وفی الفتاوى الهندية: ولا قصر في السنن، كذا في محيط السرخسي، وبعضهم جوزوا للمسافر ترك السنن والمختار أنه لا يأتي بها في حال الخوف ويأتي بها في حال القرار والأمن، هكذا في الوجيز للكردري اھ (1/ 139)
وفی الفتاوى الهندية: (وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، (إلی قوله) (ومن الأعذار الخروج للغائط والبول، وأداء الجمعة) فإذا خرج لبول أو غائط لا بأس بأن يدخل بيته ويرجع إلى المسجد كما فرغ من الوضوء، ولو مكث في بيته فسد اعتكافه، وإن كان ساعة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط اھ (1/ 212)
وفی بدائع الصنائع: فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر. اھ (2/ 83)