السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مسنون سلام کے بعد عرض کیا جاتا ہے کہ بندہ ایک مسئلے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ یہ ہے ایک مسجد ہے اور اس مسجد کا اوپر والا چھت تیار نہیں ہوا ہے اور زمینی منزل والی چھت میں نماز پڑھی جاتی ہے فی الحال۔اور زمینی مسجد والی چھت میں امام صاحب کا کمرہ بھی ہے تو کیا اس امام صاحب کی کمرے میں رمضان کا اعتکاف ہو سکتا ہے یا نہیں اخری عشرے والا ؟
واضح ہو کہ اعتکاف مسجد کے اس حصہ میں کرنا ضروری ہے جو شرعی مسجدکا حصہ ہو (یعنی جس حصہ کو نمازوں کیلئے مختص کردیا گیا ہو ) اس کے علاؤہ کسی اور جگہ اعتکاف کرنا درست نہیں ،لہذا صورت مسؤلہ میں مذکور امام صاحب کا کمرہ اگر شرعی مسجد کا حصہ نہ ہو تو فی الوقت اس میں اعتکاف کرنا درست نہ ہوگا ،البتہ اگر کمرے کو توڑ کر باقاعدہ مسجد کا حصہ بنایا جائے تب اس میں اعتکاف کرنے میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا ۔
کما فی الدر: (وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس (ولو جعل لغيرها أو) جعل (فوقه بيتا وجعل باب المسجد إلى طريق وعزله عن ملكه لا) يكون مسجدا،اھ (باب أراد أهل المحلة نقض المسجد وبناءه أحكم من الأول،ج: 4،ص: 357،مط: دارالفکر بیروت)
و فی البدائع: وروى الحسن بن زياد عن أبي حنيفة أنه لا يجوز إلا في مسجد تصلى فيه الصلوات كلها،اھ (فصل فی رکن الاعتکاف،ج: 2،ص: 113،مط: دارالکتب العلمیه)
و فی التبیین: والاعتكاف لا يصح إلا في مسجد جماعة لقول حذيفة رضي الله عنه لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة وعن أبي حنيفة أنه لا يجوز إلا في مسجد يصلى،اھ (باب الاعتکاف،ج: 1،ص: 349،مط: دارالکتاب الاسلامی)