کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد دو منزلہ ہے، رمضان کے آخری عشرہ میں لوگ اعتکاف کرتے ہیں، کچھ وجو ہات کی بنا پر یہ مشورہ ہوا کہ تمام معتکفین مسجد کی دوسری منزل پر اعتکاف کریں، دوسری چھت پر جانے کے لیے دو راستے ہیں ، اور دونوں راستے مسجد کے اندر ہی سے ہیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ تمام معتکفین دوسری منزل پر اعتکاف کریں، پہلی منزل یعنی حال مسجد میں کوئی معتکف نہ ہو، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
جس طرح مسجد کی پہلی منزل پر اعتکاف کرنا جائز اور درست ہے ، اسی طرح دوسری منزل پر اعتکاف کرنے سے اعتکاف درست ادا ہو جائے گا، بشر طیکہ دوسری چھت پر جانے کے راستے مسجد شرعی کے اندر ہوں، چنانچہ صورت مسئولہ میں دوسری منزل پر اعتکاف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ففي الفتاوى التاتارخانية: قال محمد رحمه الله تعالى : يكره المجامعة والبول فوق المسجد، وبذا لما عرف أن حكم المسجد ثابت في الهواء والعرصة جميعاً ، ولهذا أن من قام على سطح المسجد مقتديا بإمام في المسجد وبنو خلف الإمام يجوز والمعتكف إذا صعد سطح المسجد لا ينقض اعتكافه . ولا يحل للجنب والحائض والنفساء صعود سطحه اھ ( ج ۳ ص ۴۵)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله لأنه مسجد) (إلی قوله) قال الزيلعي: ولهذا يصح اقتداء من على سطح المسجد بمن فيه إذا لم يتقدم على الإمام. ولا يبطل الاعتكاف بالصعود إليه ولا يحل للجنب والحائض والنفساء الوقوف عليه اھ (1/ 656)۔
وفيه ايضاً : وسطح المسجد له حكم المسجد اھ (1/ 587) والله اعلم بالصواب