السلام علیکم!
میں ایک کمپنی میں پرمننٹ انجنئیر کے عہدے پر فائز ہوں، میں کمپنی کی طرف سے بغداد میں کام کر رہا ہوں ، ٹھیکے کے مطابق کمپنی میرے سب دستاویزات ویزہ ، ٹیکٹ) کی ذمہ دار ہے، یعنی اگر میں کہیں سفر کروں تو کمپنی مجھ کو اس سفر کے لئے درکار دستا ویزات بنا کر دے گی، مگر دسمبر 2011 میں کمپنی کی غلطی کی وجہ سے ویزہ کمپلیٹ نہ ہو سکا اور اس وجہ سے مجھ کو نومبر کے 15 دن اور دسمبر کے 31 دن پاکستان میں گزارنے پڑے، اب مسئلہ یہ ہے کہ میں نے چونکہ یہ دن اپنے گھر میں گزارے، کمپنی کی غلطی سے تو کیا میں نومبر اور دسمبر کی تنخواہ کا حقدار ہوں ؟ یعنی یہ پیسہ ناجائز تو نہ ہوگا؟ اس میں ایک بات اور میں نے تھوڑی سستی یہ کی کہ بوجہ 20 دسمبر کا ٹکٹ لینے کے میں نے 31 دسمبر کا ٹکٹ لیا ، تاکہ اپنی فیملی کے ساتھ کچھ وقت مزید گزارلوں (کمپنی کو اس کا نہیں پتا کہ میری تنخواہ ٹوٹل تین ہزار ڈالر ہے یعنی سو ڈالر ایک دن کے لیے کھانا اور رہائش اس کے علاوہ ہے۔
تنقیح: (۱) کیا کمپنی کی طرف سے ان ایام کی تنخواہ دینے یا نہ دینے کے بارے میں کوئی وضاحت بیان کی گئی ہے؟ (۲) اگر ہاں تو وہ کیا ہے؟ (۳) اگر کمپنی کو آپ کے ۲۰ دسمبر کے بعد کی چھٹی کے بارے میں معلوم ہو جائے تو ضابطہ کے مطابق اس کا طرز عمل کیا ہوگا؟ براہ کرم پہلے مذکور بالا ان تنقیحات کی واقعی وضاحت کر کے ای میل کر دیں، اس کے بعد آپ کے سوال کا حکم شرعی بھی بیان کر دیا جائےگا۔
جواب تنقيح: ۱۔ کمپنی کے منیجر نے مجھ کو بتایا کیونکہ میں پرمننٹ ملازم ہوں اس لیے مجھ کو تنخواہ لے لینی چاہیے ، میرے معاہدے میں لکھا ہے کہ کمپنی میرے تمام دستاویزات کی ذمہ دار ہوگی، مگر کمپنی کی سستی کی وجہ سے یہ مسئلہ ہوا، میں نے اپنے مالک سے بات کی کہ مجھے تنخواہ چاہیے اور ان کو بتایا کہ یہ غلطی ساری کمپنی کی ہے تو انہوں نے مجھ کو تنخواہ دیدی۔
۲۔ کمپنی والوں نے کچھ نہیں کہا بلکہ میں نے خود ان کو بتایا کہ غلطی ان کی ہے تو انہوں نے تنخواہ ادا کر دی۔
۳۔ اگر کمپنی کو 20 دسمبر کے بعد کی چھٹی کا معلوم ہو جائے تو شاید مجھ کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے یا پھر وہ صرف تنبیہہ کر کے چھوڑ دیں۔
سائل نے اگر چھٹیاں واقعۃً کمپنی کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے کی ہوں اور کمپنی مالکان نے اپنی اس کوتاہی کو تسلیم کرتے ہوئے ان ایام کی تنخواہ سائل کو دیدی ہو تو سائل کے لیے یہ تنخواہ لینا جائز اور درست ہے، البتہ بیس تا اکتیس دسمبر کی چھٹی سائل کی اپنی غفلت کی وجہ سے ہے ،اس لئے ان ایام کی تنخواہ لینا اس کے لیے جائز نہیں، بلکہ جو تنخواہ لی ہے اس میں سے دس دنوں کی تنخواہ کمپنی مالکان کو واپس کر دے اور اگر بتا دینے میں نوکری سے برخواست ہو جانے کا اندیشہ ہو تو غیر محسوس طریقے سے دیدینا چاہیے تاکہ مواخذہ اخروی سے سبکدوش ہو سکے۔
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قلت: فعلى هذا إذا ترك صاحب الوظيفة مباشرتها في بعض الأوقات المشروط عليه فيها العمل لا يأثم عند الله تعالى غايته أنه لا يستحق المعلوم اھ (5/ 265)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): أما لو شرط شرطا اتبع كحضور الدرس أياما معلومة في كل جمعة فلا يستحق المعلوم إلا من باشر خصوصا إذا قال من غاب عن الدرس قطع معلومه فيجب اتباعه اھ (4/ 419)
وفيه ايضاً : و في فتاوى الحانوتي يستحق المعلوم عند قيام المانع من العمل ولم يكن بتقصيره سواء كان ناظرا أو غيره كالجابي. (4/ 372)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0