السلام علیکم !
ہم ابھی کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں بعض وجوہات کی بنا پر اب ہم کرایہ کے مکان میں مزید نہیں رہ سکتے اس لئے ایک گروی کا مکان تلاش کر کے شفٹ ہونے کا ارادہ ہے لیکن میرے ناقص علم کے مطابق یہ حلال نہیں ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت کر دیں کہ یہ حلال ہے یا نہیں اور اگر حلال ہے تو کن شروط کے ساتھ یہ درست ہے ؟ شکریہ
واضح ہو کہ کسی کو قرض دے کر بطور وثیقہ اس سے گروی پر گھر لینا جائز ہے، لیکن مرتہن کو اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں اگر چہ مرتہن کو اس سے استفادہ کی اجازت بھی ملی ہو، تاہم سائل جس طریقے سے مکان لینا چاہتا ہے اگر اس کی تصریح کر دے تو اس کے حکم پر مکرر غور کیا جاسکتا ہے۔
ففي البدائع : بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ليس للمرتهن أن ينتفع بالمرهون، حتى لو كان الراهن عبدا ليس له أن يستخدمه، وإن كان دابة ليس له أن يركبها، وإن كان ثوبا ليس له أن يلبسه، وإن كان دارا ليس له أن يسكنها، وإن كان مصحفا ليس له أن يقرأ فيه؛؛ لأن عقد الرهن يفيد ملك الحبس لا ملك الانتفاع اھ (6/ 146)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قال ط: قلت والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع، ولولاه لما أعطاه الدراهم وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعين المنع، والله تعالى أعلم اهـ. (6/ 482)