میں نے سنا ہے کہ اسلام میں جب جہاد کے بعد جو لوگ پکڑے جاتے ہیں ، اگر ان میں عورتیں ہوں، تو وہ مسلمانوں پر حلال ہیں اس کا کیا مطلب ہے ؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے جماع کرنا حلال ہے ؟
اگر آپ ہاں کہتے ہیں، تو میرا آپ سے سوال ہے کہ یہ تو زنا ہے، کیا کسی سے زنا حلال ہو سکتا ہے؟ جبکہ اسلام تو عورتوں کے بارے میں بہت اچھی باتیں کہتا ہے، اسلام نے ہی تو عورتوں کو ان کا حق دلوایا ہے ۔
دورانِ جہاد جب کفار مسلمانوں کے ہاتھ قیدی ہو جاتی ہیں، تو وہ بھی مالِ غنیمت میں شامل ہو کر مجاہدین میں تقسیم ہوتے ہیں ، ان میں سے مردوں کو غلام اور عورتوں کو بطورِ باندی رکھا جاتا ہے ،اور اگر یہ باندی مجوسیہ یا مشرکہ نہ ہو تو استبراء کے بعد اس کے ساتھ ہمبستری بھی جائز ہے ، اور یہ زنا نہیں ،بلکہ یہ ان دو مواقع میں سے ایک ہے ،جس کو قرآن نے مسلمانوں کے لئے بطورِ جنسی خواہش پورا کرنے کی اجازت دی ہے ،اس کو زنا سمجھنا اسلام سے دوری اور جہالت پر مبنی ہے، اس سے احتراز لازم ہے ۔
قال الله تعالى : {وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ } [المؤمنون: 5، 6]۔
وقال الله تعالى : {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ } [النساء: 24]۔
و في أحكام القرآن للجصاص: تحت ہذہ الآیة: ﴿والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم﴾ عن أبي سعيد الخدري أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث جيشا إلى أوطاس فلقوا عدوا فقاتلوهم وظهروا عليهم فأصابوا منهم سبايا لهن أزواج من المشركين فكان المسلمون يتحرجون من غشيانهم فأنزل الله تعالى والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم أي هن لكم حلال إذا انقضت عدتهن وقد ذكر أن أبا علقمة هذا رجل جليل من أهل العلم وقد روى عنه يعلى ابن عطاء وروى هو هذا الحديث عن أبي سعيد وله أحاديث عن أبي هريرة وهذا حديث صحيح السند قد أخبر فيه بسبب نزول الآية اھ (3/ 81)۔
و في الفتاوى الهندية: والمراد بالأمة هاهنا هي التي يحل له وطؤها وأما إذا كانت لا تحل له كأمته المجوسية أو المشركة اھ (5/ 327)۔
و في الدر المختار: (من) ملك استمتاع (أمة) بنوع من أنواع الملك كشراء وإرث سبي (الی قوله) (ولو بكرا أو مشرية من عبد أو امرأة) (الی قوله) (أو من مال صبي) ولو طفله (حرم عليه وطؤها و) كذا (دواعيه) في الأصح لاحتمال وقوعها في غير ملكه بظهورها حبلى (حتى يستبرئها بحيضة فيمن تحيض وبشهر في ذات أشهر) (6/ 375)۔