جہاد کیا ہے ؟جو کشمیر میں ہورہا ہے وہ جہاد ہے یا جو افغانستان میں ہے، وہ جہاد ہے یا جو خود کش بمبار ہے وہ جہاد ہے؟ برائے مہربانی حق اور سچ کے سا تھ جواب دیں اللہ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے۔
جب کفار و مشرکین کو اللہ تعالی کی توحید اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تسلیم کرنے اور موافق شریعت اسلام زندگی گزارنے کی دعوت دی جائے، اور وہ اس دعوت الی اللہ کو قبول کرنے کے بجائے اس کے مخالف ہو جائیں۔ اور اسے دوسرے لوگوں تک پھیلانے اور پہنچانے میں رکاوٹ بن جائیں، اور معاملہ قتل و غارت تک پہنچ جائے، تو محض اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر ان کے ساتھ قتال کرنا جہاد فی سبیل اللہ کہلاتا ہے، پھر اس کے نتیجہ میں ان کے جتنے لوگ قید ہو جائیں، ان کے مردوں کو غلام اور عورتوں کو باندیاں بنانا بھی جائز ہے، یا مسلمان حاکم اپنی صوابدید سے جو بھی فیصلہ کرے ۔ جبکہ بقیہ لوگوں پر جزیہ لازم کیا جائے اور وہ جزیہ دے کر مملکت اسلامی میں رہیں گے۔ پھر ان کے الگ احکام ہیں جو کتب مذہب میں بخوبی موجود ہیں۔
اس سے بخوبی واضح ہو گیا کہ جہاں جہاں مسلمان اعلاء کلمۃ اللہ اور اپنی مذہبی آزادی کی خاطر کوشش کر رہے ہیں اور وہ وقتی حکمت عملی و مصلحت کے تحت کسی بھی طریق پر کام کر رہے ہیں۔ وہ بلا شبہ جہاد ہے، جبکہ بلاوجہ خود کش حملے او بم بلاسٹ کرنا اور بے گناہ لوگوں کی جان لے لینا خصوصاً ان ممالک میں جہاں مسلمان حالت جنگ میں نہیں ،قطعاً جائز نہیں اور نہ ہی جہاد کہلاتا ہے۔ اس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار: وهو لغة: مصدر جاهد في سبيل الله. وشرعا: الدعاء إلى الدين الحق وقتال من لم يقبله شمني اھ (4/ 121)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: معنى الجهاد: الجهاد لغة: بذل الجهد وهو الوسع والطاقة: مأخوذ من الجهد بالضم، أوا لمبالغة في العمل: مأخوذ من الجهد بالفتح. واصطلاحاً عند الحنفية: هو الدعاء إلى الدين الحق وقتال من لم يقبله بالمال والنفس (إلى قوله) وأنسب تعريف للجهاد شرعاً أنه: بذل الوسع والطاقة في قتال الكفار ومدافعتهم بالنفس والمال واللسان. (8/ 5845)۔
و في الهداية شرح البداية: وإذا دخل المسملون دار الحرب فحاصروا مدينة أو حصنا دعوهم إلى الإسلام لما روى ابن عباس رضي الله عنما أن النبي عليه الصلاة والسلام ما قاتل قوما حتى دعاهم إلى الإسلام قال فإن أجابوا كفوا عن قتالهم لحصول المقصود (إلى قوله) فإن أبوا ذلك استعانوا بالله عليهم وحاربوهم لقوله عليه الصلاة والسلام في حديث سليمان بن بريدة فإن أبوا ذلك فادعهم إلى إعطاء الجزية إلى أن قال فإن أبوها فاستعن بالله عليهم وقاتلهم اھ (2/ 136)۔
وفيها أیضاً: قال وهو في الأسارى بالخيار إن شاء قتلهم لأنه عليه الصلاة والسلام قد قتل ولأن فيه حسم مادة الفساد وإن شاء استرقهم لأن فيه دفع شرهم مع وفور المنفعة لأهل الإسلام اھ (2/ 141)۔