کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ووٹ کا شرعی حکم اور درست طریقہ کیا ہے؟ مروجہ ووٹوں کا طریقہ درست ہے یا نہیں؟ اگر علماء ان ووٹوں میں حصہ لیں تو شریعت کی رو سے گناہگار ہوں گے یا نہیں؟ کیا ایسے علماء کو فاسق فاجر کافر کہنا درست ہے؟ جبکہ بعض لوگوں نے اس طرح کے فتوے بھی دئیے ہیں۔ المستفتی:
کسی امید وار کو ووٹ دینے کی از روئے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں:
۱۔ ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ شخص اس کام کی قابلیت بھی رکھتا ہے اور دیانت دار اور امانت دار بھی ہے۔
۲۔ دوسری حیثیت ووٹ کی، شفاعت کی ہے یعنی ووٹر اس کی نمائندگی کی سفارش کرتا ہے اور اچھی سفارش یہ ہے کہ قابل اور دیانتدار شخص کی سفارش کرے۔
۳۔ تیسری حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے لہٰذا ووٹر کو خود ایسے امیدوار کا انتخاب کرنا چاہئے جو کہ نیک، خداترس متقی ہو، اور اس کام کا قابل و اہل ہو، اگر امیدواروں میں کوئی بھی ایسی حسنات والا نہ ہو تو پھر بھی تقلیلِ شر کیلئے امیدواروں میں سے کسی ایسے آدمی کا انتخاب کیا جائے جو دوسروں کی بنسبت اچھا ہو اور اس کو ووٹ دینا جائز بلکہ مستحسن ہے اور انتخاب کے سلسلہ میں ہر ایسا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے جو ناجائز اور نصوصِ شرعیہ سے متصادم نہ ہو اور موجودہ ووٹوں کے ذریعے اگرچہ بظاہر کسی صحیح اور دیندار نمائندہ کا انتخاب مستبعد ومتعذر نظر آرہا ہے مگر یہ طریقہ بھی فی نفسہٖ جائز اور سرست ہے لہٰذا کسی شخص کا اس طریقۂ انتخاب میں حصہ لینے والے علماء کو فاسق، فاجر کہنا دین سے دوری اور جہالت پر مبنی ہے ایسے افراد کو چاہئے کہ مذکور غلط رویہ سے مکمل احتراز کریں اور صحیح العقیدہ و صالح لوگوں کی راہ میں رکاوٹ ڈال کر فساق و فجار کیلئے آلہ کار نہ بنیں اور جن لوگوں نے ان علماء کے بارے میں فاسق فاجر ہونے یا کافر ہونے کا فتویٰ لگایا ہے اگر تحریر میں موجود ہے تو اس فتویٰ کی فوٹو کاپی ارسال کرکے اس سے متعلق حکم شرعی اور معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
مسلمانوں کے بادشاہ-حاکم اور عام مسلمانوں کے لۓ دین کے کس قدر علم کا حصول ضروری ہے؟
یونیکوڈ سیاسی مسائل 0