جادو

جادوکرنے اورکروانے والے کا حکم

فتوی نمبر :
2111
| تاریخ :
معاشرت زندگی / فنون و حرفت / جادو

جادوکرنے اورکروانے والے کا حکم

السلام علیکم جناب محترم جادو کی حقیقت کیا ہے ؟ جادو کرنے اور کروانے والوں کے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہے ؟ مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائیں جزاک اللہ خیر ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآن و حدیث کی اصطلاح میں سحر صرف ایسے عمل کو کہا گیا ہے جس میں کفر و شرک اور فسق و فجور اختیار کر کے جنات و شیاطین کو راضی کیا گیا ہو اور ان سے مدد لی گئی ہو، ان کی امداد سے کچھ عجیب واقعات ظاہر ہو گئے ہوں۔ (ماخوذ از معارف القرآن از مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ علیہ ) (۱/ ۲۷۹، ۲۷۸)
اور اس کا کرنا ، کرانا ہر دو امور شرعا ناجائز اور حرام ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله والكافر بسبب اعتقاد السحر) في الفتح: السحر حرام بلا خلاف بين أهل العلم، واعتقاد إباحته كفر اھ (4/ 240)
وفیه أیضا: و في حاشية الإيضاح لبيري زاده قال الشمني: تعلمه وتعليمه حرام. (1/ 44)
و في تفسير ابن كثير: ثم من المعلوم بالضرورة أن الصحابة والتابعين وأئمة المسلمين وعامتهم، كانوا يعلمون المعجز، ويفرقون بينه وبين غيره، ولم يكونوا يعلمون السحر ولا تعلموه ولا علموه، والله أعلم. (1/ 251)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کفایت اللہ ہاشم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 2111کی تصدیق کریں
0     324
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مندرجاکرجادومنترکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   جادو 0
  • جادوکرنے اورکروانے والے کا حکم

    یونیکوڈ   جادو 0
  • پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کے لیے عمل

    یونیکوڈ   جادو 0
  • کیا سات سمندر پار بھی کوئی کسی پر جادو کر سکتا ہے؟

    یونیکوڈ   جادو 0
  • سفلی اور جادو کروانے والے کے بارے میں شریعت کاحکم

    یونیکوڈ   جادو 0
  • روزی میں بے برکتی اور پریشانی کے حل ہونے کے لیے وظیفہ

    یونیکوڈ   جادو 0
Related Topics متعلقه موضوعات