جناب مفتی صاحب !آج سے تین سال پہلے میں نے ایک ہی نشست کے دوران اپنی بیوی کو 6 دفعہ یہ بولا "کہ تم کو میری طرف سے طلاق ہے" براہ مہربانی اللہ تعالٰی اور اسکے رسول محمد صلی علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق مجھے یہ بتائیں کہ کیا ہمارے درمیان طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ؟ اگر ہوگئی ہے تو اب تک ہمارا ایک ساتھ رہنا کیسا ہے اللہ تعالٰی آپکو جزائے خیر دے ۔
احادیثِ صحیحہ اور اقوالِ صحابہ و تابعین کی روشنی میں باتفاقِ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ ایک ہی نشست یا ایک ہی جملہ میں تین طلاق دینے سے شرعاً تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں-
لہذا صورتِ مسئولہ میں شخص ِمذکور کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے جس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوباره با ہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہو سکتا ، اس لئے دونوں میاں بیوی پر لازم ہیکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور اب تک طلاق کے بعد ساتھ رہنے سے جو گناہ ہو چکا ہے اس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کریں اور عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ جہاں چاہے اپنا عقد نکاح بھی کر سکتی ہے۔
قال تعالی :{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]
وفی الھدایة:وان کان الطلاق ثلثا فی الحرۃ اواثنتین فی الامة لم تحل له حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحا صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا اھ (2/399) .
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0