سمندری جھینگا حلال ہے، یا حرام ہے ،یا مکروہ ؟
(۲) کسی مکروہ چیز کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟
(۳) نمازی کے آگے سے گزرنا گناہ ہے ،تو کیا اس نمازی کی نماز میں بھی کوئی فرق پڑتا ہے ؟
فقہاءِ احناف کے نزدیک سمندری جانوروں میں سے جو مچھلی (سمک) کی تعریف میں داخل ہے وہ حلال ہے ، ائمۂ ثلاثہ کچھ استثنائی جانوروں کے علاوہ تمام سمندری جانوروں کی حلت کے قائل ہیں، تاہم جھینگے کی حلت کے بارے میں اختلاف ہے ، جن حضرات نے ماہرین لغت کی تحقیق کے مطابق اُسےمچھلی میں شمار کیا ہے، ان کے ہاں حلال ہے ، اور جن حضرات نے ماہرین حیوانات کی رائے کو مانتے ہوئے اُسے خارج کر دیا ہے اُن کے ہاں یہ مکروہِ تحریمی ہے، اس اختلاف رائے کی بنا پر جھینگا حرام تو نہیں کہلا ئیگا، البتہ اس کے کھانے سے احتراز اولی اور احوط ہے۔
(۲) مکروہ چیز سے کیا مراد ہے ، وضاحت لکھ کر بھیج دیں ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔
(۳) اس عمل سے نمازی کی توجہ بٹتی اور اُس کے خشوع میں خلل پڑتا ہے تاہم اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی ۔
وفي مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أحلت لنا ميتتان ودمان: الميتتان: الحوت والجراد والدمان: الكبد والطحال ". رواه أحمد وابن ماجه والدارقطني (2/ 1203)-
و في تكملة فتح الملهم: غير أن الاجتناب عن أکله احوط و أولی وأحری اھ (۳/ ٥١٤ )-
وفي الدر المختار: (ولا يفسدها نظره إلى مكتوب وفهمه) ولو مستفهما وإن كره (ومرور مار في الصحراء أو في مسجد كبير بموضع سجوده) في الأصح (أو) مروره (بين يديه) إلى حائط القبلة (في) بيت و (مسجد) صغير، فإنه كبقعة واحدة (مطلقا) (1/ 634)-
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله أو مروره إلخ) مرفوع بالعطف على مرور مار: أي لا يفسدها أيضا مروره ذلك وإن أثم المار. (1/ 634)-