میں اپنی فیملی کے ساتھ سنگا پور میں رہتا ہوں ، میں پاکستان واپس آنا چاہتا ہوں ،کیونکہ یہاں کا ماحول میرے بچوں کے لیے اور میری فیملی کے لیے ٹھیک نہیں ہے ، مجھے خود بھی شرمندگی ہوتی ہے، جب میں کام کے وقت نماز نہیں پڑھتا ہوں ، میرے والدین پاکستان میں رہتے ہیں اور ہمیں بہت یاد کرتے ہیں ، اب میں پاکستان میں نوکری تلاش کر رہا ہوں اور فیصل بینک اور نیشنل بینک سے جواب بھی ملا ہے، انہوں نے مجھے کہا ہے کہ یہ اسلامی بینک ہے، مجھے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے کہ آیا میں یہ نوکری کر سکتا ہوں یا نہیں ؟
سائل کو جن بینکوں میں (فیصل بینک یا نیشنل بینک) میں ملازمت مل رہی ہے اگر یہ ان بینکوں کے غیر سودی ونڈو برانچز ہو ں تو اس میں ان کی ملازمت اختیار کرنا شرعا بھی جائز ہے۔
و في تكملة فتح الملهم: عن جابر قال لعن رسول الله صلى عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهده وقال من سواء ؛ قال الشيخ وقوله صلى الله عليه وسلم وكاتبه لان كتابة الربا اعانة عليه ومن هنا ظهر ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فان كان عمل المؤظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب فذلك حرام لوجهين الأول اعانة على المعاصية والثانى اخذ الأجرة من المال الحرام، فان معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا واما اذا كان العمل لا علاقة له بالربا، فانه حرام للوجه الثاني فحسب فاذا وجد بنك معظم دخله حلال جاز فيه التؤظف للنوع الثاني من الاعمال اھ (۱/619)