السلام علیکم ! ہمارے گھر میں ٹی وی ہے جس کمرے میں یہ ملعون ٹی وی رکھا ہوا ہے اس کمرے میں قرآن کریم بھی رکھا ہوا ہے، تو میں اس کو گھر سے نکالنا کی ترکیب سوچتا رہتا ہوں، ایک دن ایسا ہوا اس کمرے میں کوئی نہیں تھا تو میں نے یہ سوچا کہ میں قرآن کی تلاوت شروع کر دیتا ہوں تاکہ میرے گھر والے ٹی وی چالو نہ کر سکیں، لیکن میرے بھائی نے آکر ٹی وی کھولا اور ریسلنگ(کشتی) دیکھنا شروع کیا، جس میں میوزک (موسیقی)ہوتا ہے اور آواز بھی تیز کر دی تو میں مجبوراً ادھر سے چلا گیا۔ اس صورتِ حال میں میرے طریقے اور بھائی کے رویہ کا کیا حکم ہے؟کیا یہ قرآن کی بے حرمتی نہیں ہے؟
جب سائل ٹی وی والے کمرے میں تلاوت کر رہاتھا تو اس کے بھائی کا مذکور عمل بلاشبہ ناجائز اور قطعاً نامناسب حرکت ہے، اسے اپنے کیے پر ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیے اس قسم کی کاموں سے احتراز چاہیے۔
اور سائل نے جو کیا بلاشبہ درست اقدام ہے اُسے ایسے ہی کرنا چاہیے،تاہم گھر کے دیگر افراد کو بھی ترغیب دے کر اس ملعون چیز کو گھر سے نکالنے پر آمادہ کر لیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے، چنانچہ اس سلسلہ میں انہیں ترغیب و ترہیب بیان کر کے اور اس کے نقصانات بتا بتا کر آمادہ کرنا زیادہ مفید رہےگا۔والله أعلم بالصواب!