روزے میں کس طرح کے گیم کھیلنا جائز نہیں ہے ؟ فائرنگ والے گیم کھیل سکتے ہیں ؟
رمضان المبارک اللہ رب العزت کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا مہینہ ہے ، اس کا ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی ہے،جس میں عبادات اور طاعات کے ذریعہ ان ثمرات اور برکات کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ،لہذا رمضان المبارک کے ان قیمتی لمحات کو عبادات کے بجائے گیم اور دیگر فضول ولایعنی چیزوں میں خرچ کرنا ایک مسلمان کی شایان شان نہیں ، خاص طورپر اس طرح کے گیم کھیلنا جن کے بیک گراونڈمیں میوزک یا اس میں نامحرم عورتوں کی تصاویر وغیرہ بھی ہوں ، ان غیر شرعی امور پر مشتمل ہونے کی وجہ ایسے گیم ناجائز بھی ہیں ، اس لئے اس طرح کے گیم کھیلنے سے مکمل اجتناب چاہیئے۔
کمافی الدرالمختار: (و) كره تحريما (اللعب بالنرد و) كذا (الشطرنج) وهذا إذ لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب وإلا فحرام بالإجماع اھ (کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ج6ص394 ط:سیعد)۔
وفی ردالمحتار: (قوله والشطرنج) معرب شدرنج، وإنما كره لأن من اشتغل به ذهب عناؤه الدنيوي، وجاءه العناء الأخروي فهو حرام وكبيرة عندنا، وفي إباحته إعانة الشيطان على الإسلام والمسلمين كما في الكافي قهستاني اھ(فصل فی البیع ج6 ص394ط:سعید)۔