جناب میں نے ایک کمیٹی ڈالی ہے جس کا نمبر 21 ہے، ایک اور شخص جس کی کمیٹی کا نمبر 7 ہے، مجھے رقم کی اشد ضرورت ہے؟ میں نے اس کو پیش کش کی ہے کہ وہ اپنی کمیٹی مجھے دے دے اور میری کمیٹی وہ لے لے، اور میں اس کو دس ہزار روپے انعام کے طور پر اپنی خوشی سے دوں گا، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
سائل کا اپنی باری دوسرے کے ساتھ تبدیل کرنا درست ہے البتہ مذکور طریقہ سے اس پر دس ہزار معاوضہ دینا اور دوسرے کا لینا ناجائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح البخاری: عن عائشۃؓ ان سودۃ بن زمعہ وھبت یومہا لعائشہ وکان النبیﷺ یقسم لعائشۃؓ بیومہا ویوم سودۃ الخ. (ج:۲ ص: ۷۸۵)
وکما فی تنویر الابصار: ھو عقل مخصوص یرد علی دفع مال مثلی لآخر لیرد مثلہ وصح فی مثلی لا فی غیرہ الخ. (ج:۵ ص: ۱۴۱)
وکما فی الدر المحتار: کل قرض جر نفعا فھو حرام الخ. (ج:۵ ص: ۱۴۴) واللہ اعلم