جناب محترم مفتی صاحب !اگر ایک عورت حج پر گئی ہو، اور وہاں قانون کے مطابق چالیس روز گزرنے کے بعد مکہ چھوڑنے کا حکم لازمی ہوتا ہے، عورت حج کے احکام بجالاتی ہو ، انتیسویں دن حیض کامرض لاحق ہوجائے ، تو اس صورت میں عورت کیا کرے؟ اگر انتظار کرے تو حکومت نہیں چھوڑتی ، اور اگر مکہ چھوڑے تو فرض طوافِ زیارت رہ جاتاہے ، اس مسئلہ میں راہ نمائی معتمد کتب کے حوالہ جات کےساتھ مطلوب ہے ۔
ایسی صورت میں عورت کے لیے اصل حکم یہ ہے کہ جب پاک ہو جائے تو اس وقت طوافِ زیارت کرلے ،تاہم اگر حکومت کی جانب سے مکہ میں رہنے پر پابندی ہو اور ویزے کی تاریخ بڑھانا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں باَمر مجبوری بحالت ِحیض اگر عورت نے طوافِ زیارت کر لیاتو اس کا طواف تو ادا ہو جائے گا البتہ اسکی وجہ سے بدنہ یعنی ایک اونٹ یا گائے قربان کرنا اور حالتِ حیض میں طواف کرنےکی وجہ سے توبہ واستغفار بھی لازم ہوگا۔
کما فی الہدایۃ : وإذا حاضت المرأة عند الإحرام اغتسلت وأحرمت وصنعت كما يصنعه الحاج غير أنها لا تطوف بالبيت حتى تطهر " لحديث عائشة رضي الله عنها حين حاضت بسرف ولأن الطواف في المسجد والوقوف في المفازة وهذا الاغتسال للإحرام لا للصلاة فيكون مفيدا " اھ (1/156)۔
و فیھا أیضاً : " ولو طاف طواف الزيارة محدثا فعليه شاة " لأنه أدخل النقص في الركن فكان أفحش من الأول فيجبر بالدم " وإن كان جنبا فعليه بدنة " كذا روي عن ابن عباس رضي الله عنهما اھ (1/161)۔