اجرت و کرایہ داری

بینک میں ملازمت کا حکم

فتوی نمبر :
2898
| تاریخ :
معاملات / مالی معاوضات / اجرت و کرایہ داری

بینک میں ملازمت کا حکم

میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آج کل جو بینکاری اسلامی طرز پر ہو رہی ہے کیا یہ صحیح ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ کسی بینک یا انشورنس کمپنی میں کام کیا جائے؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے ؟ اور اس کے بارے میں مجھے بتائیں کہ اسلامک بینک اور اسلامک انشورنس کمپنی میں کام کرنا کیسا ہے؟ جیسے کہ میزان اور دوبئی اسلامک بینک ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہماری معلومات کی حد تک ہمارے یہاں پاکستان میں " المیزان" اور " البرکہ" کے ساتھ ڈیلنگ کرنے کی گنجائش ہے، کیونکہ ان دونوں بینکوں میں جو نظام رائج ہے وہ دوسرے مرّوج بینکوں سے کہیں بہتر اور شریعت کے نزدیک تر ہے، جکہ مضاربہ اور مشارکہ کی بنیاد پر قرض لینا اور دینا اور اس سے منافع حاصل کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، تاہم یہ بینک پرائیوٹ ہیں اور پرائیوٹ اداروں کی پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں، اور ان میں کام کرنے والے ملازمین بھی مسائلِ شرعیہ سے ناواقف ہوتے ہیں، جو مجوّزہ طریقہ کار اور تکییفات میں عموماً اغلاط کا شکار ہوتے ہیں، اور نتیجۃً وہ عام سودی بینکوں جیسے معاملات انجام دے رہے ہوتےہیں۔
(2) انشورنس کمپنی اور بینکوں کی ایسی ملازمت جسکا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو جیسے منیجر اور کیشئر وغیرہ کی ملازمت ، ایسی ملازمت بالکل ناجائز اور حرام ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے ( لعن رسول اللہ ﷺاکل الربواٰ وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء، مسلم شریف 2/28) یعنی رسول اللہ ﷺ نے سودکھانے والے اور سود دینے والے اور سودی تحریر لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں، اور ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے لیکن بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے نہیں نہ ان کا تعلق سودی کے لکھنے سے ہے نہ سود پر گواہ بننے سے ہے اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہے، جیسے چوکدار کی ملازمت ، ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ ایسی ملازمت بھی جائز نہیں جسکا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، کیونکہ ایسے ملازمین کا اگرچہ سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں لیکن انہیں جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتا ہے، اور اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ایسی ملازمت جسکا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں یہ جائز ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ اگر چہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتا ہے لیکن بینک میں موجود رقوم ساری کی ساری سودی نہیں ہوتیں، بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہیں، یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں یعنی بینک نے وہ رقم قرض کے طور پر لی ہوئی ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک کے مالکان کا اصل سرمایہ ہے، اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بطور سود کے حاصل کی گئی ہیں ، لیکن بینک مین جمع شدہ ان رقوم میں اکثر پہلی دو قسم ہوتی ہیں اور آخر قسم کی رقوم ان کی بہ نسبت کم ہوتی ہے، اس لئے بینک میں موجود رقوم میں اکثر رقوم حلال ہوتی ہیں، لہذا اگر اس مجموعی رقم سے ایسے ملازم کو تنخواہ دیجاتی ہے جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں تو اس کے لئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام نہیں البتہ بہتر یہی ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
خالد محمود نذیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 2898کی تصدیق کریں
0     524
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • گھاس کاٹنے والے کو آدھی گھاس اجرت میں دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   اجرت و کرایہ داری 0
  • بقرہ عید پر گائے کھڑی کرنے کی پارکنگ لگانے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   اجرت و کرایہ داری 0
  • حرام آمدن والے کو مکان کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کمپنی کے ملازم کا کمیشن لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • کمپنی کا مال فروخت کرنے پر کمیشن لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • جرگہ کے منصفین کا ، فریقین کے درمیان فیصلوں پر اجرت لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • زیادہ ایڈوانس رقم کی وجہ سے کرایہ میں کمی کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • تعلیمِ قرآن پر اجرت لینا

    یونیکوڈ   انگلش   اجرت و کرایہ داری 0
  • ایمازون پر ورچوئل اسٹینٹ کی حیثیت سے کام کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • تعلیمِ قرآن پر اُجرت لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کرایہ کی تعیین کا حق اور حقِ شفعہ مالک کا ہے یا کرایہ دار کا ؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • امامت اور دیگر دینی امور و اعمال پر اجرت کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 3
  • ایزی پیسہ اور جاز کیش میں اضافی چارجز لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • بے ضابطگی کرنے پر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • نماز جنازہ کیلئے کسی امام کا مخصوص اجرت لینا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • تعمیر سے پہلے بلڈنگ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • قسطوں پر گھر بیچنے کے بعد کرایہ کا حقدار کون ہوگا ؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کمیشن ایجنٹ کا فریقین کو بتلائے بغیر اپنا کمیشن رکھنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • غیر مسلم ٹھیکدار , جو کرپشن بھی کرتا ہو , اس کے پاس کام کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • میڈیکل اسٹور والوں کو لائسنس کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • قادیانی بچوں کو انگلش پڑھاکر فیس لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • ڈاکٹر کا مریض ریفر کرنے پر میڈیکل اسٹور والے سے کمیشن لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کسٹمرز لانے پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • دودھ کے لئے بھینس کرائے پر لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
Related Topics متعلقه موضوعات