میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آج کل جو بینکاری اسلامی طرز پر ہو رہی ہے کیا یہ صحیح ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ کسی بینک یا انشورنس کمپنی میں کام کیا جائے؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے ؟ اور اس کے بارے میں مجھے بتائیں کہ اسلامک بینک اور اسلامک انشورنس کمپنی میں کام کرنا کیسا ہے؟ جیسے کہ میزان اور دوبئی اسلامک بینک ہیں۔
ہماری معلومات کی حد تک ہمارے یہاں پاکستان میں " المیزان" اور " البرکہ" کے ساتھ ڈیلنگ کرنے کی گنجائش ہے، کیونکہ ان دونوں بینکوں میں جو نظام رائج ہے وہ دوسرے مرّوج بینکوں سے کہیں بہتر اور شریعت کے نزدیک تر ہے، جکہ مضاربہ اور مشارکہ کی بنیاد پر قرض لینا اور دینا اور اس سے منافع حاصل کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، تاہم یہ بینک پرائیوٹ ہیں اور پرائیوٹ اداروں کی پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں، اور ان میں کام کرنے والے ملازمین بھی مسائلِ شرعیہ سے ناواقف ہوتے ہیں، جو مجوّزہ طریقہ کار اور تکییفات میں عموماً اغلاط کا شکار ہوتے ہیں، اور نتیجۃً وہ عام سودی بینکوں جیسے معاملات انجام دے رہے ہوتےہیں۔
(2) انشورنس کمپنی اور بینکوں کی ایسی ملازمت جسکا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو جیسے منیجر اور کیشئر وغیرہ کی ملازمت ، ایسی ملازمت بالکل ناجائز اور حرام ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے ( لعن رسول اللہ ﷺاکل الربواٰ وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء، مسلم شریف 2/28) یعنی رسول اللہ ﷺ نے سودکھانے والے اور سود دینے والے اور سودی تحریر لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں، اور ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے لیکن بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے نہیں نہ ان کا تعلق سودی کے لکھنے سے ہے نہ سود پر گواہ بننے سے ہے اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہے، جیسے چوکدار کی ملازمت ، ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ ایسی ملازمت بھی جائز نہیں جسکا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، کیونکہ ایسے ملازمین کا اگرچہ سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں لیکن انہیں جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتا ہے، اور اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ایسی ملازمت جسکا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں یہ جائز ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ اگر چہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتا ہے لیکن بینک میں موجود رقوم ساری کی ساری سودی نہیں ہوتیں، بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہیں، یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں یعنی بینک نے وہ رقم قرض کے طور پر لی ہوئی ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک کے مالکان کا اصل سرمایہ ہے، اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بطور سود کے حاصل کی گئی ہیں ، لیکن بینک مین جمع شدہ ان رقوم میں اکثر پہلی دو قسم ہوتی ہیں اور آخر قسم کی رقوم ان کی بہ نسبت کم ہوتی ہے، اس لئے بینک میں موجود رقوم میں اکثر رقوم حلال ہوتی ہیں، لہذا اگر اس مجموعی رقم سے ایسے ملازم کو تنخواہ دیجاتی ہے جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں تو اس کے لئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام نہیں البتہ بہتر یہی ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0