جعل سازی

نقل سے حاصل ہونے والی ڈگری پر ملازمت کا حکم - جعلی اسناد

فتوی نمبر :
29324
| تاریخ :
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / جعل سازی

نقل سے حاصل ہونے والی ڈگری پر ملازمت کا حکم - جعلی اسناد

میں یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میں اگر کبھی یونیورسٹی میں پیپر میں یا کچھ چیزیں نقل کرتا ہوں اور پھر پاس ہو کر ڈگری لیکر کہیں نوکری کرتا ہوں تو اس نوکری کی کمائی میرے لیے حلال ہوگی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امتحان میں نقل کرنا ایک قسم کی دھوکہ دہی اور خیانت ہونے کی وجہ سے ناجائز عمل ہے جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کسی نے اس طرح سے پاس ہوکر ڈگری حاصل کی اور اس ڈگری سے اسے نوکری ملی اور وہ اس نوکری اورذمہ داری کو پورا کرتا ہے تو اسکی آمدنی اس کیلئے حلال ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال رسول اللہﷺ: ’’مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا‘‘ (سنن الترمذی: ج ۳ ص ۵۹۸)۔ واللہ تعالٰی اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی عطاء اللہ اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 29324کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نقل سے حاصل ہونے والی ڈگری پر ملازمت کا حکم - جعلی اسناد

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جعل سازی 0
  • جعلی ڈگری پر ملی ہوئی ملازمت کی تنخواہ کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   جعل سازی 0
  • موبائل کی آئی ایم ای آئیIMEI تبدیل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   جعل سازی 2
  • اسٹڈی ویزہ کیلئے پیسے دے کر جعلی بینک اسٹیٹمنٹ بنوانا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • دھی گاڑھا بنانے کے لئے بھینس کے دودھ میں خشک دودھ ملانا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • کسی دوسرے کی پراڈکٹ پر اپنا لیبل لگاکر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • امتحان میں نقل سے پاس ہوکر حاصل کردہ ڈگری پر ملازمت اور اس کے آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • مطلقہ عورت کا نکاح نامہ میں اپنے کو کنواری لکھوانا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • سرٹیفیکیٹ میں نمبر بڑھوانے کا حکم

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
Related Topics متعلقه موضوعات