ادیان باطلہ

اتھیسٹ مذہب کو اختیار کر نا اور اس کو مختلف طریقوں سے پھیلانے والا کا حکم

فتوی نمبر :
29772
| تاریخ :
2020-10-26
ادیان و فرق / مذاہب / ادیان باطلہ

اتھیسٹ مذہب کو اختیار کر نا اور اس کو مختلف طریقوں سے پھیلانے والا کا حکم

میرے ایک دوست جس کا نام شہزاد نعیم ہے، میں اس کے بارے میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، شہزاد نعیم جو کے اتھیسٹ ہوچکا ہے، میں اپنے دوست کو 1995 سے جانتا ہوں، وہ اسکول کے وقت سے ہی ہمیشہ مختلف مذہبی معاملات پر بحث کرتا تھا اور اسلام کو پوری طرح قبول کرنے سے گھبراتا تھا، کبھی کبھی وہ دین اور اسلام کے لیے ایسی باتیں بول دیتا تھا کے ان کو اس جگہ لکھنا بھی گناہ ہوگا، 1999 میں وہ دبئی چلا گیا اور پھر وہ ہر سال دبئی سے پاکستان آکر چند مہینے اپنی فیملی کے ساتھ گزارتا تھا اور کراچی میں رہ کر مختلف مذہبی معاملات پر ریسرچ کرتا تھا، جب میں نے اس سے پوچھا کہ دبئی میں اس کا کیا کام ہے تو وہ بولا کے دبئی میں شراب خانوں کا منیجر ہے، بہت ساری پارٹی کنسرٹ بھی کرتا ہے اور پھر اس نے 2001 میں کراچی کے ہوٹل میں بہت بڑی پارٹی بھی کرائی جس میں 5000 لوگ کُلّی شراب کے نشے میں تھے، میں ان سب چیزوں کو اگنور کرتا رہا، 2005 میں جب میں اس سے کراچی میں ملا تو اس نے بتایا کے وہ اپنا پروفیشن بدل چکا ہے اور لوگوں کو روشنی دکھانے کے لیے اور سائنس کی طرف راغب کرنے کے لیے اسلام پر ڈاکومنٹری فلمز لکھے گا اور اس کی ہدایت کاری کرے گا، اس نے 2010 میں کراچی میں ایک ڈاکومنٹری بنائی، جس کا نام ہے ’’شیڈ آف بلیف‘‘ اس نے اس ڈاکومنٹری میں بڑے علامہ کے انٹرویو کیا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ جیسے سارے علامہ ایک دوسرے سے متفق نہیں ہوتے اور صرف اپنے اپنے فائدے کے لیے اسلام کو استعمال کرتے ہیں، جب لوگوں کو اس ڈاکومنٹری کا پتہ چلنے لگا تو اس نے اپنا نام شہزاد سے صرف شاہ کرلیا، میں نے اپنے دوست سے تھوڑا فاصلہ رکھنا شروع کردیا، وہ جب بھی پاکستان آتا تھا میں کوشش کرتا تھا کے اس سے نہ ملوں کیوں کہ وہ ہمیشہ اسلام کی بے حرمتی کرتا تھا، اب 2016ء ستمبر میں اس نے پاکستان آکر مجھ سے دوبارہ رابطہ کیا اور میرا انٹرویو لینے کی کوشش کی، ایک نیو ڈاکومنٹری جس میں وہ یہ دکھانے کی کوشش کررہا ہے کہ پاکستان میں اسلام صرف پیسہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور 99 فیصد دنیا کے اسلامی علامہ اسلام کو نہیں، بلکہ سعودی کی سیاست کو فالو کرتے ہیں اور شیعہ سنی صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور یہ کے یہ سب بناوٹی مذہب فالو کرتے ہیں اور مسلمان ہونے سے بہتر ہے کہ یہ سب اتھیسٹ ہوجائیں اور سائنس اور ترقی کی طرف توجہ دیں۔
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ اس طرح کے انسان کی کیا سزا ہونی چاہیے جو اسلام سے خارج ہونے اور اتھیسٹ ہونے کو قبول کرتا ہے اور میڈیا میں ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اسلام کی طرف سے بھٹکاتا ہے؟
(۲) اس کی فیملی نے اس سے لا تعلقی اختیار کرلی ہے، کیا مجھے بھی اس طرح کے انسان سے دور رہنا چاہیے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس طور پر کہ سائل کا مذکور دوست کفریہ عقائد رکھتا ہو اور وہ خود بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہو، تو ایسی صورت میں وہ مرتد ہوکر دائرہ اسلام سے خارج ہوچکا ہے اور اس کا نکاح بھی ختم ہوچکا ہے، اس کی بیوی پر لازم ہے کہ اس سے علیحدگی اختیار کرے اور جب تک تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح نہ کرے، اس وقت تک میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا بھی شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
سائل کو چاہیے کہ مذکور دوست کو معتبر علماء کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرے اور ساتھ دعاؤں کا اہتمام بھی کرے، اس کے باوجود اگر وہ اپنے کفریہ عقائد پر قائم رہے اور اسلام قبول کرنے سے انکار کرے تو ایسے شخص سے تعلقات رکھنا خطرے سے خالی نہیں، بلکہ ایسے شخص سے حتی الامکان بچا جائے، البتہ سزا کے طور پر ایسے شخص کو قتل کرنا کسی کے لیے درست نہیں، بلکہ یہ حکومتِ وقت کا کام ہے، اگر حکومتِ اسلامیہ کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے کفریہ عقائد پر قائم رہتا ہے تو اس کو قتل کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، تاکہ فتنہ کی سرکوبی ہو اور لوگوں کا ایمان محفوظ رہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالٰی: ﴿لا تتخذوا الیہود والنصاریٰ أولیاء﴾ (سورة المائدة: ۵۱)
وفی أحکام القرآن للجصاص: وفی هذہ الاٰية دلالة علی أن لکافر لا یکون ولیسا للمسلم اه(2/444)
ففي ٲحکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى: ﴿وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم﴾۔ الآية(إلی قوله) وهذا يدل على أن علينا ترك مجالسة الملحدين وسائر الكفار عند إظهارهم الكفر والشرك وما لا يجوز على الله تعالى إذا لم يمكننا إنكاره وكنا في تقية من تغييره باليد أو اللسان اھـ (۲/۲۷۰)۔
قال تعالٰی: ﴿یٰا ایہا الذین اٰمنوا لا تتخذوا دینکم هزوًا ولعبًا﴾ الخ (سورة المائدة: ۵۷) وقال الجصاص تحت هذہ الاٰية: فیه نہی عن الاستنصار بالمشرکین لأن الأولیاءهم الأنصار اه (2/447)
وفی الہندية: ومن یرضی بکفر نفسه فقد کفر (الی قوله) وإن رضی بکفرہ لیقول فی اللہ مالا یلیق بصفاته یکفر وعلیه الفتوی کذا فی التتار خانية۔ (2/257)
وفیها أیضًا: ومن أنکر المتواتر فقد کفر اه(ج۲، ص۲۶۵)
وفیها أیضًا: والاستہزاء بأحکام الشرع کفر کذا فی المحیط اه(ج۲، ص۲۸۱)
وفیها أیضًا: المرتد عرفًا والراجع عن دین الإسلام اه (ج۲، ص۲۵۳)
وفیها ایضًا: إذا ارتد المسلم عن الإسلام والعیاذ باللہ عرض علیه الإسلام، فإن کانت له شبهة أبداها کشفت، إلا أن العرض علی ما قالوا غیر واجب، بل مستحب، کذا فی فتح القدیر، ویحبس ثلاثة أیام؛ فإن أسلم وإلا قتل اه (ج۲، ص۲۵۳)
وفی الشامية: والملحد وهو من مال عن الشرع القویم إلی جهة من جہات الکفر، من ألحد فی الدین حاد وعدل اه (ج۴، ص۲۴۱)
وفی خلاصة الفتاویٰ: (ألفاظ الکفر) من أبغض عالمًا بغیر سبب ظاهر خیف علیه الکفر اه (ج۴، ص۳۸۸) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد العزیز غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 29772کی تصدیق کریں
0     1103
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تنظیم "فکرِ شاہ ولی اللہ " کے افکار و نظریات

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 3
  • ’’صدیق حسین المعروف بہ صدیق دیندارالمقلب بہ چن بس ویشور‘‘ کے عقائد و نظریات

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 0
  • اتھیسٹ مذہب کو اختیار کر نا اور اس کو مختلف طریقوں سے پھیلانے والا کا حکم

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 0
  • ذکری فرقہ کے لوگوں کو سلام کرنا - سلام کا جواب دینا

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 0
  • ’’فرقہ گوہر شاہی‘‘ کے نظریات اور ان میں رشتوں کا حکم

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 0
  • ہندو ، پرویزی ، شیعہ، عیسائی وغیرہ کو سلام کرنا یا ان کے سلام کا جواب دینا

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 0
  • ذکری فرقہ کی حقیقت اور ان سے جائز مفاد حاصل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 0
  • ’’بہائی مذہب‘‘ کے حامل رشتہ دار سے تعلق رکھنا

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 0
  • ذکری(فرقۂ ذکریہ والے) کا مال مدرسہ میں استعمال کرنا

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 0
  • اسلام میں سب سے پہلے عقائد کا اختلاف کب شروع ہوا؟

    یونیکوڈ   ادیان باطلہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات