طوافِ زیارت سے پہلے بیوی کے ساتھ ہمبستری کر سکتے ہیں ؟ اس کا کیا کفارہ ہے ؟
تلبیہ پڑھ کر احرام کی نیت کرنے کے بعد حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا جائز نہیں ، اگر کسی نے وقوف عرفہ کے بعد حلق اور طوافِ زیارت سے قبل اپنی بیوی سے ہمبستری کی تو اس کا حج تو ادا ہو جائے گا لیکن اسکی وجہ سے اس پر بطور ِدم حدود ِحرم میں ایک بدنہ بڑا جانور(اونٹ ) ذبح کرنا لازم ہوگا ۔
کما فی الدر المختار : (و) وطؤه (بعد وقوفه لم يفسد حجه، وتجب بدنة، وبعد الحلق) قبل الطواف (شاة) لخفة الجناية اھ (260)۔
و فی الہندیة : ولو جامع امرأته بعد الوقوف بعرفة لا يفسد حجه جامع ناسيا أو عامدا (الی قوله ) وإن جامع بعد الحلق فعليه شاة كذا فی الكافی ولو جامع بعد ما طاف طواف الزيارة كله أو أكثره لا شيء عليه ولو طاف لها ثلاثة أشواط تجب بدنة وحجته تامة كذا فی شرح الطحاوي اھ (1/24)۔