السلام علیکم! میرا سوال یہ ہےکہ اگر ہمیں کسی شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ سود دیتا ہے تو کیا ہم اس شخص کی امامت میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اور اگر وہ خود امامت کے لیے کھڑا ہو گیا ہو تو ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میرا مطلب ہے اس کو امامت سے روک دے یا خود چھوڑ کر چلے جائیں؟
ایسا شخص شرعاً فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے، جس کی بناء پر اُسے اپنے اختیار سے منصبِ امامت پر برقرار رکھنا بھی جائز نہیں، اس لیے ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ مذکور فعل سے بصدقِ دل تائب ہونے کے ساتھ دیگر امورِ فسقیہ سے بھی احتراز کرے تاکہ اس کی امامت بلاکراہت جائز ہو سکے، جبکہ دوسری جگہ اگر جماعت ملنے کی اُمید ہو تو جماعت کھڑی ہونے سے قبل وہاں جانا بہتر ہے، تاہم اگر شخصِ مذکور کی اقتداء میں نماز پڑھ لی جائے تو اس پر بھی جماعت کا ثواب ملےگا۔
ففی مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» رواه مسلم اھ(2/ 855)
وفی الفتاوى الهندية: ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي.كذا في الخلاصة. اھ(1/ 84)
وفی الدر المختار: (ويكره إمامة عبد واعرابی وفاسق واعمیٰ إلا أن یکون اعلم القوم ومبتدع لا یکفر بھا (فلا يصح الاقتداء به أصلا) اھ(1/562۔559)
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0