کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) زید نے اپنی بیٹی کا نام انعمتَ رکھا ہے، کیا یہ نام درست ہے؟ اور اس نام کے کیا معنی ہیں؟ قرآن کے حوالے سے بتائیں، یہ نام سورۂ فاتحہ سے لیا ہے اور انعمتَ ہی پکارتے ہیں اور اردو میں انعمتیٰ لکھتے ہیں اور ’’ت‘‘ پر ’’الف‘‘ لگاتے ہیں، انگریزی میں Anamta لکھتے ہیں۔
(۲) اگر ہائے نسبتی کے ساتھ "انعمتہ" پکارا جائے تو کیا یہ نام درست ہے؟ اور اس نام کے کیا معنیٰ ہیں؟ براہِ کرم دونوں سوالات کے جوابات مفصل دے کر ممنون فرمائیں۔ شکریہ
(2-1) جاننا چاہئے کہ نام وہ اسم ہوتا ہے جو کسی شئی کے وصف یا اس کی ذات پر دلالت کرے مذکور لفظ ’’اَنْعَمْتَ‘‘ کوئی اسم نہیں بلکہ گرائمر کے اعتبار سے فعل ہے، جس کے معنیٰ ’’تونے انعام کیا‘‘‘ کے ہیں، اس قسم کے نام رکھنا کوئی عقلمندی نہیں، نام ایسا ہونا چاہئے جو اچھے معنیٰ والا ہونے کے ساتھ ساتھ اس شخص کی کسی اچھی خوبی اور خصلت پر بھی دلالت کرے، لہٰذا مذکور لفظ ’’انعمت‘‘ پر ہائے نسبتی لگاکر اس نام کو رکھنا یا اس کے بغیر رکھنا مناسب نہیں، اگر آپ مناسب اور اسلامی نام رکھنا چاہتے ہیں تو درجِ ذیل اسماء میں سے کوئی ایک رکھ لیں: نجمہ، نعیمہ، سلمیٰ، زاہدہ، مریم، زبیدہ، جویریہ، رابعہ، عائشہ وغیرہ۔
فی الحدیث: تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم وأسماء آبائکم فأحسنوا أسمائکم۔ (مشکوٰۃ: ص۴۸)-
وفی رد المحتار: (تتمۃ) التسمیۃ باسم لم یذکرہ اﷲ تعالٰی فی عبادہ ولا ذکرہ رسول اﷲ ﷺ ولا یستعملہ المسلمون تکلموا فیہ والأولٰی أن لا یفعل۔ (ج۶، ص۴۱۷)-
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0